نربھیا معاملہ، اکشے کی نظرثانی عرضی سپریم کورٹ سے خارج
نئی دہلی: راجدھانی دہلی کے نربھیا آبروریزی معاملے کے قصوروار اکشے سنگھ کی نظرثانی عرضی پر سپریم کورٹ نے خارج کر دی ہے۔ جسٹس آر بھانومتی،جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس اے ایس بوپنا کی بینچ نے آج تقریباً ایک گھنٹے تک عرضی گزاروں اور استغاثہ فریق کی دلیلیں سننے کے بعد کہا کہ وہ آج ہی دوپہر ایک بجے فیصلہ سنائے گی۔
اس سے پہلے اکشے سنگھ کی جانب سے پیش وکیل اے پی سنگھ نے دلیلیں دیں اور کہا کہ معاملے کی جانچ سوالوں کے گھیرے میں ہے۔انہوں نے کہا،’’ہمارے پاس نئے حقائق ہیں۔میڈیا،سیاست اور عوام کے دباؤ میں اکشے کو قصوروار ٹھہرا دیا گیا۔‘‘
شہریت ترمیمی قانون پر روک لگانے سے سپریم کورٹ کا انکار، مرکز کو جاری کیا نوٹس
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے شہریت (ترمیمی) ایکٹ 2019 کے خلاف درخواستوں پر مرکزی حکومت سے بدھ کو جواب طلب کیا، اگرچہ اس نے اس قانون پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔ اب معاملہ کی اگلی سماعت 22 جنوری کو ہوگی۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس سوریہ کانت کی ڈویژن بنچ نے شہریت (ترمیمی) ایکٹ 2019 کو چیلنج دینے والی کم از کم 59 درخواستوں کی سماعت کے دوران مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب مانگا۔ کورٹ نے نوٹس کے جواب کے لئے جنوری 2020 کے دوسرے ہفتہ تک کا وقت دیا۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش، ترنمول کانگریس کی پارلیمنٹ مہوا مؤترا اور دیگر رہنماؤں، انفرادی اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے پیش ہو رہے وکلاء کی اس درخواست کو مسترد کریا جس میں اس قانون پر روک لگانے کی مانگ کی گئی تھی۔
سیلم پور اور جعفرآباد تشدد کے معاملے میں چھ افراد گرفتار
نئی دہلی: شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف مظاہرے کے دوران سیلم پور، جعفرآباد اور برج پوری میں رونما ہوئے تشدد کے معاملے میں چھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ شمال مشرقی ضلع پولس کے ایک سینئر افسر نے يو این آئی کو بتایا کہ سیلم پور جعفرآباد تشدد معاملے میں پانچ افراد اور برج پوری تشدد معاملے میں ایک گرفتاری ہوئی ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ کے مجرمانہ ریکارڈ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تشدد میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولس نے تشدد بھڑکانے، توڑ پھوڑ کرنے اور سرکاری کام میں خلل ڈالنے کے معاملات میں الگ الگ تھانوں میں تین ایف آئی آر درج کی گئیں ہیں۔
شہریت ترمیم قانون پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو جاری کیا نوٹس
شہریت ترمیم قانون پر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے، اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں 60 درخواستیں لگائی گئی ہیں، جس پر عدالت نے سماعت کی ہے۔ عرضی میں قانون کے آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔ حالانکہ کورٹ نے شہریت ترمیم قانون پر روک لگانے سے انکار کر دیا، اب معاملے کی اگلی سماعت 22 جنوری، 2020 میں ہو گی۔
A Bench of Chief Justice SA Bobde, Justice BR Gavai and Justice Surya Kant refuses to stay the implementation of the Citizenship (Amendment) Act, 2019. Supreme Court says it will hear the pleas in January. pic.twitter.com/U4Up0yh7T9
— ANI (@ANI) December 18, 2019
Supreme Court issues notice to the Centre on a batch of pleas challenging the Citizenship (Amendment) Act, 2019. pic.twitter.com/c5zkXh30fQ
— ANI (@ANI) December 18, 2019
جامعہ تشدد معاملہ: آصف محمد خان سمیت جامعہ کے 3 طلبا رہنماؤں کے خلاف معاملہ درج
نئی دہلی: شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف اتوار کو نیو فرینڈس کالونی کے نزدیک ہوئی پرتشدد جھڑپوں میں کانگریس کے سابق رکن اسمبلی آصف محمد خان کے علاوہ یونیورسٹی کے تین طلباء لیڈروں اور تین دیگر مقامی لیڈروں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔
جامعہ نگر تھانے میں 16 دسمبر کو درج کی گئی ایف آئی آر میں کانگریس کے سابق رکن اسمبلی آصف محمد خان خان کے علاوہ تین مقامی لیڈروں کے نام بھی شامل ہیں، جن کی شناخت آشو خان، مصطفی اور حیدر کے طور پر ہوئی ہے۔ جامعہ کے جن طلباء لیڈروں کے نام ایف آئی آر میں ہیں ان میں چندن کمار، اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن ( ایس آئی او) کے آصف اور عام آدمی پارٹی کی طلباء اکائی کے قاسم عثمانی شامل ہیں۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ سابق رکن اسمبلی اور آشو خان نے تشدد سے دو دن قبل گھوم گھوم کر لوگوں کو بھڑکایا۔ تشدد والے دن طلباء کے درمیان گھوم گھوم کر نعرے بازی کر رہے تھے۔ پولس نے فساد بھڑکانے، آگ زنی اور حکومت کے کام میں خلل ڈالنے کے معاملے میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ کانگریس کے سابق رکن اسمبلی آصف محمد خان کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ جامعہ نگر کے ایس ایچ او یہاں کے باشندوں میں خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں۔
کانگریس کے سابق رکن اسمبلی آصف محمد خان نے اس ویڈیو میں کہا کہ ایس ایچ او صاحب 15 ہزار پولس کی دھمکی نہ دیں یہاں پانچ لاکھ مسلمان رہتے ہیں اور ضرورت پڑی تو ہم ان کی قیادت کریں گے۔ ان لیڈروں میں سے کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے لیکن اس سے قبل ایک اور ایف آئی آر میں دس لوگوں کو پیر کی شب کو گرفتار کیا گیا تھا جس میں تین کا مجرمانہ ریکارڈ ہے۔
سیلم پور تشدد معاملے میں اب تک 6 لوگ گرفتار
دہلی کے سیلم پور علاقے میں شہریت ترمیم قانون کے خلاف منگل کو مظاہرے کے دوران ہوئے تشدد معاملے میں پولس نے کارروائی کی ہے، اب تک پولس نے 6 ملزمان کو گرفتار کیا ہے، پکڑے گئے ملزمان میں سے کئی مجرمانہ پس منظر کے ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
