ناندیڑ کے مدینتہ العلوم ہائی اسکول کے سال 1990 کے "میٹرک کلاس فیلوز پارٹی” کا شاندار اہتمام

ناندیڑ :8 نومبر  : ناندیڑ کے معروف تعلیمی ادارہ مدینتہ العلوم ہائی اسکول سے فارغ 1990 کی دہم جماعت کے کلاس فیلوز کی "فرینڈز دھابہ” مال ٹیکڑی روڈ، کامٹھہ پر محمد عرفان قریشی، شیخ فیاض سر اور محمد شارق احمد کی ہنگامی کاوشوں سے شاندار تقریب کا اہتمام کیا گیا. جہاں پُر لطف طعام کا انتظام کیا گیا. جس میں کم و بیش 18 کلاس فیلوز موجود تھے. جن میں محمد عرفان قریشی، شیخ فیّاض سر، محمد شارق احمد، محمد صلاح الدين بلال سر، مانیٹر محمد ذاکر قریشی، ڈاکٹر محمد صدیق قریشی سر، عبدالقادر دستگیر، محمد ارشاد، محمد طیب باوزیر سر، سید عمران ہاشمی، محمد صادق، عبدالقدیر، سید سرفراز عالم، محمد شکیل قریشی سر، عبدالمعید سر، عبدالواسع ثانی سر، محمد وسیم سر، محمد مشتاق سر، وغیرہ موجود تھے.اسکول کا زمانہ کس کو یاد نہیں آتا۔ وہ کلاسز، کلاس فیلوز اور کلاس ٹیچرز اور بہت سی یادیں۔ ٹیچرز سے مار کھانا، ساتھیوں سے شرارتیں کرنا اور کبھی کبھی لڑائی کرکے پیٹنا اور پٹنا. آوارہ گردی کرنا، ایک ساتھ کھیلنا، ہنسی مذاق کرنا. چھپ کر ابن صفی کے جاسوسی ناول پڑھنا. سبھی یاد آتا ہے. لیکن وقت نکل جاتا ہے، جسے تھامے رکھنا ناممکن ہے.

IMG-20181109-WA0053 اس موقع پر سبھی نے اپنے اسکول کے زمانے کے بیتے دنوں کی یاد تازہ کی. محمد صادق نے ایک ہی جماعت میں منجملہ پانچ جوڑی سگے بھائیوں کی شمولیت کی دلچسپ یاد دلا کر مزہ کو دوبالا کردیا. جس میں پہلی جوڑی سگے بھائی شیخ فیاض سر اور شیخ سراج کی، دوسری جوڑی عبدالحفيظ، عبدالرافع اور عبدالبصیر کی، تیسری جوڑی فیروز اور امجد کی، چوتھی جوڑی عمران اور عرفان کی، جبکہ پانچویں جوڑی سید سرفراز عالم اور سید شعیب عالم کی تھی. ساتھ ہی ساتھ مرحوم کلاس فیلوز کو بھی یاد کیا گیا جو اب ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں جن میں بالخصوص مرحومین فیروز، عبدالمجيد، عمران اور عبدالرزاق کو شدت سے یاد کیا گیا اور ان کیلئے مغفرت کی دعا کی گئی. علاوہ ازیں سید عمران ہاشمی نے اپنے منفرد اور انوکھے انداز سے محفل کو پُر مزاح کردیا. یہ تقریب نصف شب تک چلتی رہی. عبدالقدیر کے کافی اصرار پر کچھ وقفے کیلئے ان کےفروٹس آفس پر سبھی کلاس فیلوز جمع ہوئے. آخر میں سبھی نے اس تقریب میں سید اعراج، محمد سراج الدین، محمد اسلم فیروز سر، ذکی احمد جعفری اور سید شعیب عالم کی کمی کا اعتراف کیا. اور پُرنم آنکھوں سے آئندہ ملنے کی امید پر ایک دوسرے کو الوداع کیا اور بخیر و خوبی کے ساتھ اپنے اپنے گھروں کی جانب روانہ ہوگئے.

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading