عارف نسیم خان کا مودی حکومت پر شدید حملہ، خواتین ریزرویشن کو سیاسی ڈھکوسلہ قرار دیا
مودی حکومت خواتین کے نام پر آئین سے کھلواڑ کر رہی ہے، خواتین ریزرویشن کا قانون پہلے ہی بن چکا، پھر نئی سیاست کیوں؟
پارلیمانی حلقہ بندی کے ذریعے اقتدار مضبوط کرنے کی سازش ناکام، بی جے پی عوام کو گمراہ کر کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے
تھانے: سابق وزیر اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے صدر محمد عارف نسیم خان نے آج یہاں بی جے پی اور مودی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے، خواتین ریزرویشن کے نام پر اس کے بیانیے کو ایک ڈھکوسلہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت والی حکومت خواتین کے حقوق کے نام پر ملک کے آئین اور جمہوری نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور یہ سارا عمل ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
نسیم خان نے کہا کہ مودی حکومت نے اچانک پارلیمنٹ کا دو روزہ اجلاس بلا کر تین نکاتی بل پیش کیا، جبکہ اسے بخوبی معلوم تھا کہ اس کے پاس اس بل کو پاس کروانے کے لیے دو تہائی اکثریت موجود نہیں ہے۔ نسیم خان کے مطابق یہ اقدام دراصل اپوزیشن کو بدنام کرنے کی ایک کوشش تھی تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ اپوزیشن خواتین کو ریزرویشن دینے کے خلاف ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواتین کو ریزرویشن دینے کا بل ستمبر 2023 میں ہی پارلیمنٹ سے منظور ہو چکا ہے اور وہ ایک باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ایسے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب قانون پہلے سے موجود ہے تو پھر مودی حکومت کو خواتین کو ریزرویشن دینے سے کس نے روکا ہے؟ انہوں نے حکومت سے یہ بھی سوال کیا کہ آخر کیوں آج تک پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو عملی طور پر ریزرویشن نہیں دیا گیا۔
نسیم خان نے کہا کہ اصل معاملہ خواتین کے ریزرویشن کا نہیں بلکہ پارلیمانی حلقہ بندی کا ہے، جسے مودی حکومت نے اس مسئلے کے ساتھ جوڑ دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت پارلیمنٹ کی نشستوں میں اضافہ اور نئی حد بندی کے ذریعے اپنی سیاسی طاقت کو مزید مضبوط کرنا چاہتی تھی۔ ان کے مطابق، اس حد بندی کے عمل کے ذریعے حکومت اپنی مرضی کے مطابق سیاسی نقشہ تیار کرنا چاہتی تھی تاکہ آئندہ انتخابات میں اسے فائدہ حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے اس سازش کو بروقت سمجھ لیا اور اسے ناکام بنا دیا، ورنہ ملک کے جمہوری ڈھانچے پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی آج جس طرح خواتین کے حقوق کا نام لے کر اپنی سیاست چمکا رہی ہے، وہ دراصل ایک دکھاوا ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
نسیم خان نے مزید کہا کہ بی جے پی خود کو خواتین کا ہمدرد ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف خواتین بلکہ پورے ملک کو معلوم ہے کہ یہ سب ایک سیاسی ڈرامہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس طرح کے جذباتی اور نمائشی اقدامات کے ذریعے عوام کی توجہ ملک کے اصل مسائل جیسے مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بحران سے ہٹانا چاہتی ہے۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ ملک کے عوام اب باشعور ہو چکے ہیں اور وہ اس طرح کے سیاسی ہتھکنڈوں کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عوام سچائی کو پہچانیں اور ایسے اقدامات کے خلاف آواز بلند کریں جو آئین اور جمہوری اقدار کے خلاف ہوں۔
MPCC Urdu News 21 April 26.docx