ناندیڑ ضلع کی سیاست میں وکلا اور ڈاکٹروں کا رول

محمد بہا الدین ایڈوکیٹ موبائل : 9890245367

دو چار روز قبل ناندیڑ کے مراٹھی روزنامہ پرجاوانی میں ہندوستان کے نامور پارلیمنٹرین بیرسٹر اسد الدین اویسی کی تصویر کے ساتھ ایک خبر شائع کی گئی تھی کہ یہاں کے چار ڈاکٹروں نے اُن سے ملاقات کی۔ اُن ڈاکٹروں کی سماجی حیثیت چونکہ شہر میں مسلّمہ ہے۔ روزنامہ کے مطابق اُن کی اس مختصر ملاقات کے بارے میں لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ناندیڑ شہر کا عام طبقہ ایم آئی ایم سے دوری قائم کرچکا ہے لیکن سماج کا پڑھا لکھا طبقہ اس وقت بیرسٹر اسد الدین اویسی سے متاثر نظر آتا ہے۔ اور اگر یقینا ایسا ہے تو ےہ زندہ قوموں کی علامت ہے کہ وہ اچھے کاموں کی تعریف کرتے ہیں اور برائیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ چونکہ اب ےہ ملاقات اُس وقت ہورہی ہے جہاں ملک کا مستقبل متعین کرنے کے لئے الیکشن سر پر ہے۔ اور اگر اس زمانے میں انسانیت اور ملک کی بقا¿ کے لئے سیاسی بصیرت اس وقت نہایت ہی ضروری ہے۔ اُس تصویر سے ےہ بات عیاں ہے کہ ناندیڑ کے ڈاکٹروں میں آگاہی و دور اندیشی کے ہارمونس پائے جاتے ہیں۔ اس لئے ےہ ملاقات قابلِ تحسین ہی نہیں بلکہ لائقِ تقلید بھی ہے۔ اس ملاقات کے پیچھے ملک کی عظمت و سا لمیت کے لئے ملک کے سب سے اچھے پارلیمنٹرین جس نے ناندیڑ شہر کی تاریخی تقریر میں اپنی علاقائی جماعت کی سوچ و فکر سے بلند ہو کر اُسے مُلکی و ملّی سطح پر اونچے مقام پر فائض ہی نہیں کیا بلکہ اُس پروپگنڈے کی بھی نفی کردی کہ وہ بی جے پی کی Bٹیم نہیں ہے بلکہ موجودہ وقت و حالات میں اپنی سیاسی بصیرت سے اُس پارلیمنٹرین نے اپنا منفرد مقام بنالیا ہے اور اُس کے پیشِ نظر بی جے پی کے خلاف سب کا متحدہ ‘ مشترکہ ‘ متفقہ اُمیدوار مہا گٹھ بندھن ہی کا ہو۔ اس منشا¿ کے پیش نظر کہ مہا گٹھ بندھن اُن میں اور اُن کی جماعت کو شجرِ ممنوعہ سمجھتی ہے۔ اس لئے مہا گٹھ بندھن کی تشکیل کی خاطر اپنے آپ کو ونچت اگھاڑی سے علاحیدگی کا دبنگ اعلان کر ڈالا۔ گویا ےہ ایک چھوٹی علاقائی جماعت قومی و ملکی سطح پر سیاسی جماعتوں کو سبق سکھادیا۔ اس لئے ان ڈاکٹروں کا مل کر ملک کے ملّی مفاد کے لئے کام کرنے والے کو مبارکباددینا ایک فطری عمل ہے۔ڈاکٹروں کا پیشہ ہو یا وکیل کا پیشہ ان کا تعلق راست سماج سے ہوتا ہے۔ قطعِ نظر اُن کی سیاسی سوچ و فکر کے موجودہ حالات میں پائی جانے والی بے چینی جس سے عام شہری جیسے کسان‘ مزدور‘ تاجر جو نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے متاثر ہی نہیں بلکہ متضرر ہیں۔ اس طرح ڈاکٹرس سماج کی اس نبض سے بخوبی واقف ہیں۔اب ملک کی بڑی قومی جماعت کا ےہ فرض ہے کہ چھوٹی علاقائی جماعتوں کو ملک کے مفاد کی خاطر مہا گٹھ بندھن میں شامل رکھنے کے لئے سیاسی بصیرت دکھاتے ہوئے بیرسٹر اسد الدین اویسی کی طرح اپنے ذاتی ‘ علاقائی و سیاسی مفادات سے بالا تر ہوکر مہا گٹھ بندھن کی تشکیل و تقویت کی ضرورت اس لئے ہے کہ آنے والے انتخابات نظریات پر مشتمل ہونگے۔ ایک طرف زعفرانی سوچ و فکر کی بنیاد پر ہندوازم کے لئے کی جانے والی کاوشیں جو روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ اس رخش رو کی روک تھام کے لئے مہا گٹھ بندھن ونچت اگھاڑی کی مدد سے دستور کے تحفظ اور ہندوستان میں سکیولرزم کے احیا¿ و بقا کے لئے مضبوطی سے متحدہ ‘ متفقہ و مشترکہ طور پر ایک ہی اُمیدوار بی جے پی کے خلاف کھڑا کرئے تو ہی ممکن ہوگا۔ اس نظریاتی جنگ میں ہندوستان کی رواداری‘ سکیولرزم‘ گنگا جمنی تہذیب میل ملاپ اور بھائی چارگی کا احیا¿ ہوگا۔ اس لئے اس مجوزہ گٹھ بندھن میں سب سے بڑی جماعت کی ذمہ داری ہے کہ ملک کے عظیم تر مفادات کی خاطر علاقائی جماعتوں جیسے ونچت اگھاڑی کو اپنے میں سمولیں تاکہ یو پی کی طرح علاقائی جماعتیں متحد ہوکر اپنا علاقائی گٹھ بندھن نہ بنالیں۔ جب کہ یو پی کے گٹھ بندھن کے قیام کے بعد جواں سال راہول گاندھی کی پختہ سوچ و فکر نے اُس کی مخالفت نہیں کی بلکہ وسیع النظری و کشادہ قلبی سے یو پی کے گٹھ بندھن کو اپنا حلیف ہی قرار دیا کہ اُن کا مقصد بھی بی جے پی کے خلاف محاذ آرائی ہے جو کانگریس کے گٹھ بندھن کا قدرِ مشترک ہے۔ یہاں بیرسٹر اسد الدین کی طرح راہول گاندھی نے بھی جمہوریت و سکیولرزم کو اپنا ٹارگٹ رکھا ہے۔
بات شروع ہوئی تھی ناندیڑ کے سماجی و پیشہ ور ڈاکٹرس و وکلاءجو اپنی خدمات کے ذریعہ سماج کے قریب تر ہوتے ہیں۔ خواہ و سیاسی جماعت سے متعلق ہوں کہ نہ ہوں۔ آزادی سے قبل بھی ناندیڑ عثمان آباد سے ایڈوکیٹ گوئند راﺅ چوڑاوے کر اور مسٹر پھول چند گاندھی کو بھی اُن کی شخصی خدمات کی وجہ سے سابق ریاست حیدرآباد کی مجلس وزرا¿ میں شمولیت کی گئی تھی جو آج بھی سکیولرزم کے علمبردار وں کو سوچنے پر مجبور کردینی چاہیے کہ کس طرح حیدرآباد کی سلطنتِ آصفیہ میں غیر مسلم کی اکثریت کے باوجود وہاں مسلم حکمرانوں نے اپنی رواداری اور مساوات کی بنیاد پر صدیوں حکومت کی۔ اُسی طرح مابعدِ آزادی ریاستِ مہاراشٹر کے وجود میں آنے کے بعد یہاں غیر مسلموں کی اکثریت کے باوجود مسلم طبقہ کے جواں سال ایڈوکیٹ مرحوم سید فاروق پاشاہ کی قیادت کو اُس وقت کے وزیرِ اعلیٰ یشونت راﺅ چوہان اور ناندیڑ ضلع کے شنکر راﺅ چوہان کی جوہر شناسی نے فاروق پاشاہ کی خدمات کی وجہ سے ناندیڑ شہر کے اسمبلی سے منتخب کرتے ہوئے اُس رواداری کی توثیق کی جہاں بلا لحاظ مذہب و ملّت سکیولرزم کی بنیاد پر کانگریس انتخابات جیتا کرتی تھی اور اس بنیاد رپر کانگریس مسلسل کامیابیاں حاصل کرتی رہی۔جب کہ 1962میں حیدرآباد اسمبلی کے زمانے سے ہی لیڈر آف اپوزیشن وی ڈی دیشپانڈے جو مہاراشٹر میں بھی طاقتور حزب مخالف کے لیڈر تھے جنہیں فاروق پاشاہ نے اپنی نو عمری میں ہی شکست دے کر ریاستِ مہاراشٹر کی قیادت کو اپنی جانب متوجہ کر ڈلا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہندوستان ہی نہیں بلکہ ریاستوں میں بھی پچھلے کئی دہوں سے گٹھ بندھن والی راج نیتی چل رہی ہے۔ چنانچہ وسنت داد وزیرِ اعلیٰ کے زمانے میں مہاراشٹر کانگریس نے علاقائی سطح پر مسلم لیگ سے گٹھ بندھن کیا تھا اور اُس جماعت کو ایڈجسٹ منٹ کرنے کے لئے بمبئی اور ناندیڑ کی نشست پر اتفاق کرنا پڑا (اُس وقت سیاسی جماعتیں ووٹ بینک کی سیاست نہ کرتی تھی) ۔ چونکہ ریاستی مفاد کو شخصی و سیاسی مفادات پر بالا دستی حاصل تھی۔ لیکن اُس ایڈجسٹ منٹ کے اعلان کے دن ہی ناندیڑ شہر کی مسلم نشست کی نمائندگی کرنے والے سید فاروق پاشاہ کو اپنی سیٹ چھوڑنی پڑی تھی لیکن اُسی دن اُس وقت کے وزیرِ اعلیٰ وسنت راﺅ پاٹل نے ناندیڑ کی اس مسلم روادار شخصیت کو سانگلی اور ستارہ کے اضلاع کی لوکل سیلف نشست ایم ایل سی کے طور پر ان کے نام کا اعلان ہی نہیں کرڈالا بلکہ سانگلی و ستارہ کے ضلع پریشد و میونسپلٹی کے ایم ایل سی انتخابات میں کامیاب و کامران کرکے کانگریس پارٹی کی عظمت کا لوہا منوایا جب کہ سید فاروق پاشاہ کا عملی سیاست میں عمل دخل ناندیڑ و مراٹھواڑہ میں جانا جاتا تھا اور اس طرح سانگلی و ستارہ میں شخصی طور پر اُن کا کوئی عملی عمل دخل نہیں تھا جب کہ کانگریس کا سیاسی و سماجی موقف اور وہاں پائی جانے والی رواداری اور سکیولرزم کی وجہ سے سید فاروق پاشاہ کو کامیاب کرنے والے وہاں کے ضلع پریشد کے ارکان و میونسپلٹی کے ارکان نے بلا لحاظ مذہب و ملت اپنے علاقائی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر اُنہیں منتخب کیا تھا ۔ اس طرح کی دوسری مثال جو کانگریس کی عظمت اور سکیولرزم کے کیڈر میں پائی جاتی تھی جو بلا لحاظ مذہب و ملت کشمیر کے غلام نبی آزاد کو حلقہ ہنگولی سے ایک سے زائد مرتبہ انہیں کامیاب کیا اور یہی روایت ہنوز ان اضلاع میں قائم ہے جومودی کی 2014کی آندھی میں بھی سکیولرزم کے دیئے کو جلائے رکھا اور اس طرح ہنگولی سے راجیو ساتو اور ناندیڑ سے اشوک راﺅ چوہان کو کامیاب کرتے ہوئے علاقہ کی روایتی رواداری ‘ پاسداری و سکیولرزم کو قائم رکھتے ہوئے زعفرانی طاقت کو شکست دی۔ اور لوگ اب بھی بیدار ہی نہیں بلکہ عملی طور پر متحد نظر آتے ہیں کہ وہ آنے والے انتخابات میں اگر متحدہ مشترکہ متفقہ اُمیدوار ریاستی گٹھ بندھن تیار کرئے تو اب بھی کچھ نا ممکن نہیں کہ مذہبی و جذباتی طور پر لوگوں میں ملکی و ریاستی سطح پر پھیلائی جانے والی ذہنیت کا مقابلہ بھی کرسکے اور اپنی روایت و رواداری کو قائم رکھ سکےں گے۔ سیاسی حالات کے دوران پچھلے دہوں میں عوامی طور پر مقبول ڈاکٹرڈی آر دیشمکھ اور ڈاکٹر وینکٹیش کابدے نے بھی اپنے قول و عمل سے اپنی پہچان ہی نہیں بنائی بلکہ سیاسی طور پر رکن اسمبلی و رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے منتخب بھی ہوئے اور آج بھی ڈاکٹر وینکٹیش کابدے اپنے پیشے کے ساتھ ساتھ اپنی سماجی خدمات خواہ و جنتا وکاس پریشد کے ذریعہ ہو یا ریلوے سنگھرش سمیتی و معذوروں و معمرشہریوں و کاشتکاروں کے لئے اپنی سیاسی ہارمونس کا استعمال کرتے ہوئے عوامی خدمات میں جٹے ہوئے ہیں۔
ماضی میں جب سید فاروق پاشاہ نے اپنی کامیابی کی ہیٹ ٹرک کی تکمیل کی تھی اُن برسوں میں کئی دہوں تک بلولی تعلقہ سے سید بشیراحمد صاحب ایڈوکیٹ مرحوم‘ دیگلور تعلقہ سے ایڈوکیٹ سے شرف الحق صاحب مرحوم اور حد گاﺅں سے ایڈوکیٹ رفیع الدین صاحب مرحوم نے کانگریس کی سماجی رواداری اور سکیولرزم کی روایت کو قائم رکھتے ہوئے سید فاروق پاشاہ کو انتخابی میدان میں کامیاب کرنے کے لئے اُن لوگوں نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اُس طرح جنتا دل کے انتخابات کے موقع پر اُس سیاسی جماعت نے ایڈوکیٹ نور اللہ خان کی صلاحیتوں سے متاثر ہوکر اُنہیں اسمبلی میں نمائندگی دی گئی ۔ اور اہلیان ناندیڑ نے اُنہیں منتخب کرکے اپنی روایتی رواداری اور سکیولرزم کے استحکام کا ثبوت دیا تھا۔ اس طرح کہ نتائج آج بھی نئی نسل کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ ناندیڑ شہر کے ایڈوکیٹ عبدالکریم صدیقی کو بھی کانگریس نے اپنا اُمیدوار بنایا تھا لیکن وہ منتخب نہ ہوسکے۔ جب کہ ایم زیڈ صدیقی نے بھی اپنی سماجی و قانونی زندگی میں آج بھی بلا لحاظ مذہب و ملت اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
گٹھ بندھن کی سیاست پچھلے دہوں سے نافذ العمل ہے جس میں یو پی اے ہو یا این ڈی اے ‘ دونوں گروپ اپنے ہم خیال جماعتوں کے ذریعہ اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ اب ےہ ملک و ملّت کا مقدر ہے کہ موجودہ حالات میں یو پی اے کا گٹھ بندھن اپنی سیاسی بصیرت و سابقہ تجربات کی روشنی میں ما قبلِ انتخابات شرکائے گٹھ بندھن کے لےے چھوٹی و علاقائی جماعتوں کو کسی بھی قیمت پر اور ہر حال میں اُسے جوڑنا چاہیے۔ جیسے کہ ریاستی میں ونچت اگھاڑی جس میں سکیولرزم کا قدر مشترک پایا جاتا ہے۔ جس طرح ریاست میں سکیولرزم کے احیا¿ و استحکام کی خاطر بڑی جماعتوں کو اپنے مفادات سے بالا تر ہوکر عظیم تر مقاصد کے حصول کی خاطر جو اس علاقے کی مشترکہ تہذیب و گنگا جمنی ثقافت جس کی بنیاد پر آزادی کی لڑائی لڑی گئی تھی مسلم علماﺅں نے جنگ آزادی میں حصہ لینے کے لئے جہاد کا نعرہ بلند ہی نہیں کیا بلکہ قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں اور ملک کے اتحاد ‘ سا لمیت و محبت کی خاطر مذہبی بنیادوںپر بننے والے پاکستان میں منتقل نہ ہوکر اپنے لئے ہندوستان کے سکیولر روایتوں والے ملک کو اپنا وطن ہی قائم و دائم رکھا۔ اور آج بھی وہ موجودہ حالات سے ملک و ملّت میں سکیولرزم کے استحکام کی خاطر کمر بستہ ہیں۔ اس لئے موجودہ گٹھ بندھن کی تشکیل و استحکام کے موقع پر بہر صورت ہم خیال جماعتوں کے لئے متناسب نمائندگی دیتے ہوئے معلنہ اور مجوزہ گٹھ بندھن کو طاقتور بننے کی ضرورت ہے۔ اس لئے کہ ہم خیال جماعتیں جن کی سوچ و فکر ملک کے دستور کے تحفظ کے لئے ہیں اُنہیں جوڑنا چاہیے نہ کہ وہ گٹھ بندھن کو چھوڑ یں۔ اس جانب باشعو ر پڑھے لکھے طبقہ کی توجہ بعجلتِ ممکنہ اس گٹھ بندھن کو قائم و دائم رکھنا چاہتا ہے تاکہ نئی نسل کو جمہوریت میں جِلا مل سکے۔ لہذا باشعور طبقہ خواہ وہ پیشہ¿ طب میں ہو یا وکالت میں اپنے آپ کو سماج سے اور مستقبل کی سیاست سے بیگانہ نہیں رہ سکتا اور وہ سیاسی جماعتوں میں جو گٹھ بندھن کی تشکیل آخری مرحلوں میں ہے اُس میں اُن کی اعانت کرنا چاہتا ہے کہ وہ اُن کے صحیح فیصلے میں بلکلیہ طور پر ملک و ملت کے مفادات کی خاطر وہ گٹھ بندھن کے ساتھ رہے۔ لیکن اس وقت ایک لمحہ کی غلطی کی وجہ سے سکیولر روایتوں کو ہونے والے نقصانات کہیں انہیں بھگتنا یا جھیلنا نہ پڑئے۔ جمہوریت اور سکیولرزم میں ایقان رکھنے والے شہری بلا لحاظ مذہب و ملت ‘ زبان ‘ نسل و جنس آج بھی ریاستوں میں اپنی تحریروں ‘ تقریروں ‘ مذاکرے و سیمینار کے ذریعہ سے ملک کی سطح پر ہو یا ریاستی سطح پر ہر زبان میں اپنے خیالات و تحریروں کے ذریعہ سکیولر زم و جمہوریت کی بقا¿ و تحفظ کی خاطر وہ حکمران طبقہ کی اُن تمام منفی سوچ و فکر و زعفرانی ذہنیت کے خلاف پرچم بلند کیئے ہوئے ہیں۔
اس موقع پر یہاں تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ناندیڑ ضلع میں بھی پروپگنڈے کے ذریعہ حالیہ دنوں ےہ افواہ شائد اس غرض سے پھیلائی گئی ہو کہ مراٹھواڑہ میں سکیولرزم کے علمبردار مضبوط قیادت کو کمزور کیا جائے اور اس طرح وہ ناندیڑ ضلع پر حزب مخالف اپنا قبضہ کرسکے۔ لیکن ان افواہوں کی وجہ سے کیونکر راہول گاندھی اپنی روایتی نشست جو اُتر پردیش میں ہے اُس سے ہٹ کر وہ جنوبی ہند میں آئیں۔ اس لئے اُن کا نشانہ ملک کی سب سے بڑی ریاست اُتر پردیش ہی ہے جہاں وہ مشرقی یو پی کے لئے اپنی سیاسی بصیرت کی بنا پر انتخابات کے عین قبل پرینکا گاندھی کو سیاسی میدان میں اُتارتے ہوئے کانگریس کے سکریٹری کا عہدہ ہی نہیں دیا بلکہ مشرقی یوپی کے انتخابی مشن کے ذریعہ انہیں روانہ کیا۔ اور جب کہ دوسرے جواں سال مدھیہ پردیش کے قائد جیوتی رادتیہ سندھیا کو مغربی یو پی کی انتخابی مشن کی تکمیل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ پرینکا گاندھی کے عملی سیاست میں داخلے کے لئے کانگریس کے سیاسی کیڈر کا برسوں سے مطالبہ تھا اور اب ایک طرح سے راہول گاندھی کے اس اقدام کو سیاسی سطح پر ماسٹر اسٹروک سمجھا جارہا ہے۔ دانشور طبقہ ریاست میں ونچت اگھاڑی و دیگر ہم خیال جماعتوں کے اتحاد کو ناگزیر سمجھتا ہے تاکہ سیکولر سیاسی جماعتیںریاستِ مہاراشٹر میں ہی نہیں بلکہ ملکی سطح پر اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرتے ہوئے ہندوستانی دستور کی پاسبانی و نگہبانی کرسکے۔ اس موقع پر ضرورت اس بات کی ہے کہ کانگریس سب سے بڑی جماعت ہونے کے ناطے چھوٹی جماعتوں کو اپنے اندر جذب کرتے وقت بڑے بھائی کا کردار ادا کرئے جب کہ اتحادی سیاست کے موقع پر جو وسنت دادا پاٹل کے مسلم لیگ سے اتحاد کے وقت مراٹھواڑہ کے شلپ کار شنکر راﺅ چوہان نے کانگریس کے سپہ سالار کی حیثیت سے حلیف جماعت کا ساتھ دے کر عظیم روایت کی تاریخ لکھی جس سے نئی نسل کو واقف ہونا چاہیے کہ کس طرح ناندیڑ ضلع میں شیو سینا کا آغاز ہوا بعد ازاں اُسے ضلع باہر بھی کیا گیا تھااور اب زعفرانی سوچ و فکر کی جماعتیں پھر سے یہاں روایتی سکیولرزم بنام زعفرانی سوچ و فکر آنے والے انتخابات میں نشانے پر ہے۔عظیم تر مفادات کی خاطر چھوٹی سیاسی جماعتوں کو جوڑنا چاہیے تاکہ ایک کے مقابلے ایک اُمیدوار کھڑا ہو تو ہی ہندوستان کے مستقبل کواپنی مشترکہ تہذیب ‘مثبت سوچ ‘ یکجہتی ‘ سکیولرزم کو قائم و دائم رکھ سکے۔
ماضی میں اس طرح سے عوامی شعور کو دیکھا گیا جب ایمرجنسی کے بعد دستور و جمہوریت کے تحفظ کی خاطر بلا لحاظ مذہب و ملّت ایک ہوکر ڈاکٹر کابدے اور نور اللہ خان کو یہاں کی عوام نے منتخب کیا تھا۔ اُسی طرح کا اتحاد مہا گٹھ بندھن میں بھی ہو تاکہ زعفرانی سوچ و فکر والی جماعت کو ضلع باہر کرسکیں گے۔
دھواں جو کچھ گھروں سے اُٹھ رہا ہے
نہ پورے شہر پر چھائے تو کہنا
جاوید اختر

 

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading