دنیا کے بلند ترین مجسمے کی وجہ سے درجنوں مگرمچھ بے گھر

احمدآباد:26جنوری۔(ایجنسیز)انڈین حکام نے دنیا کے بلند ترین مجسمے کے قریب واقع تالاب سے لگ بھگ 300 مگرمچھوں کی نقل مکانی کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ سیاح سمندر کی سطح پر تیرنے والے جہاز کے ذریعے سے مجسمے کو دیکھنے آ سکیں۔نو فٹ تک لمبے ان جانوروں کو لوہے کے پنجروں میں ڈال کر مغربی ریاست گجرات کے دیگر حصوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔گذشتہ اکتوبرمیں آزادی کے ہیرو سردار والبھ بھائی پٹیل کے 597 فٹ لمبے مجسمے کا افتتاح ہوا تھا۔

ریاست گجرات کے دارالحکومت احمدآباد سے 200 کلومیٹر دور واقع اس مجسمے پر کانسی کا پانی چڑھا ہوا ہے اور اب اسے سیاحوں کی توجہ حاصل ہوتی جا رہی ہے۔ریل گاڑی کی سہولت موجود نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر سیاح ‘مجسم? اتحاد’ کو دیکھنے لے لیے بسوں کا استعمال کرتے تھے۔خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے محکمہ جنگلات کی افسر انورادھا ساہو نے کہا کہ کہ سیاحوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ ان کے تحفظ کی خاطر حکومت نے مگرمچھوں کو مجسمے کے پاس کے علاقے سے ہٹانے کا حکم دیا ہے۔اب تک ایک درجن مگرمچھوں کو پِک اپ ٹرکوں پر لاد کر مختلف مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔کمیونٹی سائنس سینٹر کے ڈائریکٹر جتیندرا گوالی کہتے ہیں کہ مگرمچھوں کو ان کی جگہ سے ہٹانے کا فیصلہ ملک کے جنگلی حیات کے تحفظ کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔ٹائمز آف انڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر گوالی کا کہنا تھا: ‘انڈیا کی حکومت مگرمچھوں کو ان کے قدرتی مسکن سے نکال کر ان کی جان خطرے میں ڈال رہی ہے۔’ان کا مزید کہنا تھا: ‘حکومت نے اب تک اس بات کا فیصلہ نہیں کیا کہ مگرمچھوں کو محفوظ طریقے سے کہاں چھوڑا جائے گا۔’سینکچیوری ایشیا نامی میگزین کے ایڈیٹر نے بھی اس منصوبے پر تنقید کی ہے۔ولبھ بھائی پٹیل کی طرح انڈین وزیراعظم نریندرا مودی بھی گجرات میں پیدا ہوئے۔ 2010 میں بطور وزیراعلیٰ نریندر مودی نے مجسمے پر کام شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔

حالیہ برسوں میں نریندر مودی کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پٹیل کی میراث کا دعویٰ کرنے کی کوشش میں پٹیل کو اپنا لیا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading