ناندیڑ: دو گروپ میں زبردست مارپیٹ ‘بشمول ایم آئی ایم رکن پنچایت سمیتی بیٹاتین افراد زخمی

ما ہور(ناندیڑ):19اپریل(اکرم چوہان) لوک سبھا انتخابات کی تشہیریی مہم کے دوران بی جے پی کے ایک ورکر نے راشٹرودی کانگریس کے ایک عہدیدار کے خاندان پر نچلی سطح کی تنقید کی تھی جس کے بعد اس معاملے پر دو گروپ میں زبردست مارپیٹ ہوگئی اور تین افراد زخمی ہوئے ہیں جس میں سے ایک نوجوان جو شدید زخمی اسے ایوت محل میں ابتدائی علاج کے بعد سانگوی میگھے کے خانگی ہسپتال میں علاج کے لیے داخل کیاگیا ہے ۔


تفصیلات کے مطابق آج 19 اپریل بروز جمعہ کو ماہور شہر میں صبح گیارہ بجے وارڈ نمبر 13 میں ماروتی مندر کی قریب مارپیٹ کا یہ واقعہ رونما ہوا تھا اس کے بعد دوپہر میں ایک تا دو بجے کے درمیان شیو سینا کے تعلقہ چیف صدر سدرشن جوگارام راٹھوڑ نائیک اوردیگر کارکنان سمیت 20 سے 25 افراد کے ہجوم نے بلاوجہہ سازش کے تحت صحافی و اکھیل بھارتیہ مراٹھی پترکار سنگھٹنا کے صدر و صدرنگر پنچایت کے بڑے بھائی سرفراز دو سانی کی ملکیت کی نیو ماہیر کلکشن کپڑا دوکان میں یہ ٹولی ہاتھوں میں ڈنڈے اور لکڑیاں لے کر گھس گئی اوردوکان میں توڑ پھوڑ کے بعد مال لوٹ لیااس وقت دوکان کے کاو¿نٹر میں دن بھر کے کاروبار اوربینک کی تعطیل ہونے کی وجہہ سے بینک میںجمع کرنے کیلئے رکھی گئی رقم سمیت دو تاڈھائی لاکھ روپے بھی لوٹ لئے گئے۔یاد رہے کہ چھ ماہ قبل ہی دوسانی کی فائبر فرنیچر کی دکان کو بھی شرپسندوں نے آگ لگادی تھی جس نے ان کا لاکھو ں روپےوں کا نقصان ہوا تھا اس وقت دوستانی نے پولیس میں شکایت درج کروائی تھی کہ کچھ شرپسند مشتبہ افراد نے ان کی دکان میں آگ لگائی ہے سرفراز دوسانی نے مزید کہا کہ ان کے بھائی صدر بلدیہ ہے اس لئے ان کے خاندان پر اس طرح کے حملے پہلے بھی ہو چکے ہیں اور انہیں معاشی طور پر بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کئیمرتبہ کی گئی ہے۔ اس ضمن میں پولیس کو میمورنڈم دیا گیا ہے جس میں شرپسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔دریں اثناء زخمیوں میں سے ایک زخمی نوجوان کوماہور کے اسپتال میں ابتدائی علاج کے بعدسانگوی میگھے کے میگھے اسپتال میںداخل کیاگیا ہے ۔ ایم آئی ایم کی نگر پنچایت رکن کا لڑکا شیخ سجاد شیخ عزیز اسکا نام ہے ۔ آج اس واقعے کے بعد شہر میں دن بھر حالات کشیدہ رہے لیکن پولیس نے تمام حالات پر قابو پالیا جس کی وجہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا مگر شیوسینا کی دادا گیری کے بعد شہر میں افواہوں کا بازار گرم ہوگیا اور تاجروں نے اپنی دکانیں فورا بند کر دیں۔ شہر کے حالات پر قابو پانے کے لیے ضلع ایس پی سنجے جادھو کی رہنمائی میںماہور پولیس اسٹیشن کے پی آئی لکشمن راکھ اپنے پولیس ملازمین کے ساتھ شہر بھر میں سخت بندوبست رکھا ہے جبکہ دیگر مقامات سے بھی پولیس کی خصوصی کمک کو طلب کیا گیا ہے۔ فی الحال ماہور میں اضطراب آمیز سکون ہے جبکہ پولیس کے اعلیٰ افسران بھوکر کے ایڈیشنل ایس پی وجے پوار‘ کنوٹ کے سب ڈویژنل پولیس افسر مدار پوار ‘ماہور کے سب ڈویژ نل پولیس آفیسر آسارام یہاں ڈیرہ جمائے بیٹھے ہیں ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading