ناندیڑ: بی جے پی فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے:مولاناعمرین محفوظ رحمانی

ناندیڑ:28۔جنوری(۔ورق تازہ نیوز )

مسلم پرسنل لا بورڈ کی کوششوں سے ہی طلاق ثلاثہ بل کو قانونی شکل دینے میں مرکزی حکومت ناکام ہوئی ہے کیونکہ مسلم پرسنل بورڈ نے اس بل کی مخالفت میں ملک گیر سطح پر زبردست احتجاج کیا تھا جس کی وجہ سے آج حکومت کو راجیہ سبھا میں بل منظور کرنے میں ناکامی ہوئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مسلم پرسنل لا بورڈ کے سیکرےٹری حضرت مولانا عمرین محفوظ رحمانی نے ناندیڑ میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا ہے۔

کل شام پانچ بجے دیگلورناکہ پر واقع ادارہ مرکز العلوم میں منعقدہ پریس کانفرنس میں حضرت مولانا نے طلاق ثلاثہ بل اور مرکزی حکومت کی مختلف پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت صرف ملک میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے اور ہندو مسلم کو ایک دوسرے سے لڑانے میں مصروف ہے کیونکہ حکومت تمام محاذ پر ناکام ہوچکی ہے اس وجہ سے صرف فرقہ وارانہ ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ دوبارہ اقتدار پر قابض ہو سکے لیکن ملک کے موجودہ سیاسی حالات سے یہ بات واضح نظر آ رہی ہے کہ مرکز کی بی جے پی حکومت دوبارہ اقتدار میں نہیں آئے گی۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں بھی بی جے پی کو ناکامی ہوئی ہے۔ حضرت عمرین محفوظ صاحب نے مزید کہا کہ طلاق ثلاثہ بل کو ناکام بنانے کیلئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے تمام اپوزیشن جماعتوں سے ملاقات کرتے ہوئے انھیں اس بل کی حقیقت اور طلاق ثلاثہ کے بارے میں تفصیل سے بتایا تھا جس کے بعد ان جماعتوں کو احساس ہوا کہ حکومت اس بل پر عوام کو گمراہ کررہی ہے اور مسلمانوں کے خلاف ایک سازش رچی جارہی ہے ۔اسکے بعد اپوزیشن جماعتوں نے راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں اس مسئلے پر مدلل بحث کی اور اس بل کو راجیہ سبھا میں منظوری نہیں ملی ۔ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمان نے اس مسئلے پر ایوان میں واضح الفاظ میں کہا کہ اگر حکومت واقعی میں مسلم خواتین کا تحفظ کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ قرآن کے قوانین کو نافذ کرے جس سے ہی مسلم خواتین کا تحفظ ممکن ہے ۔ مسلم پرسنل لاءخواتین ونگ نے بھی طلاق ثلاثہ بل کے خلاف کافی جدوجہد کی تھی جس کی وجہ سے ملک گیرسطح پر بڑے پیمانے پر احتجاج منظم کیا گیا تھا ۔ایک سوال کے جواب میں مولانا نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل ہے اس لئے وہ کسی بھی سیاسی جماعت کی تائید یا مسلمانوں کو یہ پیغام نہیں چاہتا ہے کہ وہ کسی ایک جماعت کو اپنا ووٹ دے۔انھوں نے بابری مسجدمسئلہ پرکہاکہ سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے اور بورڈ کورٹ کے فیصلے کو ہر حال میں قبول کرے گی۔ اس پریس کانفرنس میں حضرت مولانا عمرین محفوظ صاحب نے ملک کے دیگر اہم مسائل پر بھی سیر حاصل گفتگو کی ۔ادارہ مرکز علوم میں مفتی عبدالمغنی صاحب نے عصر سے قبل دعا فرمائی جب کہ بعد مغرب مولانا عمر صاحب نے مدرسے کے طلباءکی مجلس میں انھیں نصیحت فرمائی۔ اس پریس کانفرنس میں ادارہ مرکزالعلوم کے مہتمم جناب حامد اظہر کاشفی وہ دیگر حضرات بھی موجود تھے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading