ٹرائل تقریبا اختتام پذیر لیکن ملزم کے خلاف کسی نے گواہی نہیں دی، ایڈوکیٹ مبین سولکر
ممبئی 26جون.دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار ناندیڑ کے ایک مسلم نوجوان کی ضمانت عرضداشت پر ممبئی ہائی کورٹ میں آج سماعت عمل میں آئی جس کے دوران دورکنی بینچ نے سرکاری وکیل کو کہاکہ وہ عدالت کو بتائیں کہ آخیر انہیں ملزم کے خلاف ابتک کیا ثبوت ملا، ہائی کورٹ کے سوال پوچھنے کے بعد سرکاری وکیل نے عدالت سے ایک ہفتہ کی مہلت طلب کی جسے عدالت نے منظور کرلیا حالانکہ عدالت کل ہی ضمانت عرضداشت پر حتمی سماعت کیئے جانے کے حق میں تھی لیکن سرکاری وکیل کی درخواست پر معاملے کی سماعت ملتوی کردی گئی۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے بتایا کہ ممبئی ہائی کورٹ کی دورکنی بینچ کے جسٹس اندرجیت مہنتی اور جسٹس اے ایم بدر کے روبرو ملز م عرفان محمد غوث کی ضمانت پر بحث عمل میں آئی جس کے دوران ایڈوکیٹ مبین سولکر نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے دیڑھ سال قبل ملزم کو ضمانت اس شرط پر نہیں دینے کا حکم دیا تھا کہ خصوصی این آئی اے عدالت آٹھ ماہ میں مقدمہ کی سماعت مکمل کرلے گی لیکن اب جبکہ ایک سال سے زائد کا عرصہ گذرچکا ہے این آئی اے عدالت مقدمہ فیصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئی اور مستقبل قریب میں مقدمہ فیصل ہونے کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ سیشن عدالت میں سماعت روز بہ روز نہیں ہورہی ہے۔ایڈوکیٹ مبین سولکر نے عدالت کو بتایا کہ مقدمہ کی سماعت مکمل ہونے میں ہونے والی تاخیر کا ذمہ دار ملزم نہیں ہے اور نہ ہی دفاعی وکلاء کی وجہ سے مقدمہ کی سماعت مکمل نہیں ہوسکی نیز ابتک تقریباً 60 سرکاری گواہوں نے عدالت میں اپنا بیان درج کرایا ہے لیکن ایک بھی سرکاری گواہ نے ملزم کے تعلق سے کوئی بھی قابل اعتراض بات عدالت میں نہیں کہی لہذا ملزم کو فوراً ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے۔ایڈوکیٹ مبین سولکر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو جیل میں آٹھ سال سے زائد کا عرصہ گذر چکا ہے اور جس طرح سے این آئی اے عدالت کا م کررہی ہے اس مقدمہ کو مکمل ہونے میں ایک طویل وقفہ درکا ر ہوگا لہذا ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔اس درمیان سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسے ایک ہفتہ کی مہلت دی جائے تاکہ وہ عدالت میں ملزم کے خلاف موجود ثبوت و شواہد پیش کرسکے۔عدالت نے سرکاری وکیل کو ایک ہفتہ کی مہلت دیتے ہوئے معاملے کی سماعت 3/ جولائی تک ملتوی کردی۔دوران سماعت ہائی کورٹ میں ایڈوکیٹ مبین سولکر کی معاونت کے لیئے ایڈوکیٹ عادل شیخ و دیگر موجود تھے۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر