ناندیڑ:28فروری(ورق تازہ نیوز):حسب توقع طلاق ثلاثہ قانون نے اپنے کڑوے کسیلے پھل دےنے شروع کردئے ہیں۔ناندیڑ ضلع میں اس قانون کے غلط استعمال کا ایک معاملہ اجاگر ہوا ہے۔عزت مآب سیشن عدالت نے بھی اس بات کو مانتے ہوئے شوہر کی دخواست ضمانت منظور کرلی ہے۔ےہ معاملہ ہے ناندیڑ شہر کے شوہر اوردھرم آباد تعلقہ کی بےوی کا۔
اس معاملہ کو رےاست کا اپنی نوعےت کا دوسرا مقدمہ مانا جارہا ہے۔اس سارے معاملے کی تفصیل ےوں ہے کہ ناندیڑ شہر کے متوطن حبیب عالم صدیقی کا نکاح 17مئی2013ءکو دھرم آباد تعلقہ کے کرکھیلی کی لڑکی سے ہوا تھا۔دو سال تک مےاں بےوی کے تعلقات خوشگوار رہے لیکن اس کے بعد گھرےلو تنازعات نے زور پکڑا ۔دونوں کے بیچ اکثر تکرار ہوتی تھی۔اسی کے چلتے حبیب عالم کی بےوی میکے چلی گئی تھی۔حبیب نے اپنی بےوی کو گھر واپس بلانے کی حتی الامکان کوشش کی۔دارالقضاءسے بھی مدد لی۔لیکن حبیب کی بےوی واپس نہیں آئی۔ےہ تنازعہ تقریباً تےن سال ےوں ہی چلتا رہا۔اسی دوران 19ستمبر2018ءکو مرکزی حکومت نے ٹریپل طلاق آرڈننس نافذ کردےا۔حےرت انگےز طور پر ٹھیک اسی روز حبیب کی بےوی نے ٹریپل طلاق قانون کے تحت اپنے شوہر پر مقدمہ دائر کردےا۔دھرم آباد پولیس تھانہ میں حبیب کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔حبیب کا الزام ہے کہ اس کے سسرال والوں نے پہلے سے سوچی سمجھی سازش کے تحت اس قانون کا غلط استعمال کرکے اسے پھنسانے کی کوشش کی۔
13فروی 2019ءکو حبیب نے ناندیڑ کے معروف فوجداری وکیل ایڈوکیٹ محمد ارشد نائیک کی معرفت بلولی کی سیشن کورٹ میں پیشگی ضمانت کے لئے عرضی دائر کی۔ایڈوکیٹ ارشد نائیک کی مدلل گفتگو اور کامےاب پیروی کے باعث عزت مآب سیشن عدالت نے 22فروری2019ءکو حبیب عالم صدیقی کی پیشگی درخواست ضمانت منظور کرلی۔اپنی ضمانت منظور ہونے پر حبیب عالم نے ایڈوکیٹ ارشد نائک کا تہہ دل سے شکرےہ ادا کےا۔ایڈوکیٹ ارشد نے بتاےا کہ ٹرےپل طلاق قانون کے تحت حبیب کا ےہ کیس مہاراشٹر کا غالباً دوسراہی اکیس ہے۔کیس میں کامےابی پر عبدالعزیز،سید شکیل ودیگر رفقاءنے ایڈوکیٹ ارشد نائک کو مبارکباد دی۔اس کیس میں ایڈوکیٹ رحمت، ایڈوکیٹ کیرتی کمار اور ایڈوکیٹ زیڈ ایس چاﺅش نے اےڈوکیٹ ارشد نائیک کا تعاون کیا.