ناندیڑ:مسلمانوں کے خلاف سوشیل میڈیا پرغلط فہمیوں کے خلاف قانونی کارروائی کا علماءنے دیا اشارہ

ناندیڑ: 6اپریل(ورق تازہ نیوز)کورونا وائرس کے پھیلاو  کے معاملے میں تبلیغی جماعت پر پورے ملک میںہورہی تنقیدوں سے مسلمانوںمیں شدید غم وغصہ پایا جاتاہے ۔تبلیغی جماعت کو بنیاد بناکر سوشیل میڈیا کے ذریعہ مسلمانوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جارہاہے ۔فرقہ پرست ذہنیت کے حامل افراد رفیس بک اور واٹس ایپ پر مسلمانوں کےخلاف بے بنیاداور جھوٹی افواہیں پھیلارہے ہیں ۔جس کی وجہ سے مسلم نوجوانوں میں شدید برہمی پھیل رہی ہے ۔اس مسئلہ پر علماءاکرام بھی کافی فکر مند ہوگئے ہیں ۔ناندیڑ میں کل جماعتی تحریک کے ذمہ داران نے آج ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا اور ملک کے موجودہ حالات پر اپنا موقف واضح کیا ۔کل جماعتی تحریک کے سرکردہ علماءمولانا ایوب قاسمی ،مولانا سرور قاسمی ،مولانا آصف ندوی اور مولانا عظیم رضوی نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں کورونا وائرس کو پھیلانے کے معاملے میں تبلیغی جماعت پر جو کچھ بھی الزامات لگائے جارہے ہیں ۔

ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے ۔تمام الزامات بے بنیاد ہے اور ایک مخصوص ذہنیت کی جانب سے لگائے جارہے ہیں ۔حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے کےلئے گودی میڈیا منظم اندازمیں غلط پروپگنڈہ کر لوگوں کے ذہنوں میں مسلمانوں کےخلاف نفرت کاماحول پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں خاص طور پر غیرمسلم برداران وطن کے ذہنوں میں مسلمانوں کےخلاف زہر گھولنے کی کوششیں ہورہی ہے ۔کورونا جیسی مہلک بیماری کو ہندو مسلم بناکر پیش کیا جارہاہے حالانکہ کسی بھی مرض کا کوئی مذہب نہیں ہوتا جب وہ پھیلتا ہے تو اس کی ضد میں تمام لوگ یکساں طورپر آتے ہیں لیکن آج پورے ہندوستان میں تبلیغی جماعت کو نشانہ بناکر مسلمانوںکو بد نام کیا جارہاہے ۔سوشیل میڈیا پر مسلمانوں کےخلاف لگائے جارہے الزامات کا جواب دینے کے بجائے متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بھی نصیحت کی گئی ۔نوجوانوں سے گذارش کی گئی کہ وہ جذباتیت میں آکر تنقید کے جواب میں تنقید کرنے اور دوسرے مذاہب کے لوگوںکو برا بھلا کہنے کے بجائے جولوگ الزامات لگارہے ہیں ان کےخلاف قانونی کارروائی کی کوشش کرے ۔علماءنے اس الزام کا بھی جواب دیا کہ لاک ڈاو ن کی پابندیوں پر مسلمان عمل نہیں کررہے ہیں اس پر علماءنے کہا کہ یہ سراسر جھوٹ ہے ۔جس دن سے حکومت نے لاک ڈاون کا اعلان کیا ہے اس دن سے شہر کی تمام مسجدوںمیں تالے لگے ہوئے ہیں صرف نماز کے وقت ہی پانچ سے کم افراد نماز ادا کررہے ہیں جبکہ بقیہ تمام لوگ اپنے اپنے گھروںمیں نمازیں ادا کررہے ہیں ۔اسی طرح نماز جمعہ کو بھی لوگ چھوڑکر اپنے اپنے گھروں میں ظہر کی نماز ادا کررہے ہیں ۔

مولانا نے کہا کہ دو دن بعد شب برات آرہی ہے ہر سال شب برات کے موقع پر مسلمان ہزاروں کی تعداد میں مسجدوں میں جاتے ہیں رات تمام نمازیں اور دعائیں کی جاتی ہے قرستان کی زیارت کی جاتی ہے اپنے اپنے مرحومین کے لئے دعائے مغفرت کا خصوصی اہتمام کیا جاتاہے لیکن موجودہ حالات میں ہم لوگوں سے یہ اپیل کررہے ہیںکہ وہ شب برات کو بھی نہایت سادگی کے ساتھ اپنے اپنے گھروںمیں عبادات کریں ۔حکومت کی جانب سے لگائے گئی پابندیوں کی قطعی خلاف ورزی نہ کرے ۔پریس کانفرنس کے دوران کل جماعتی تحریک کے ذریعہ شہر کے غریبوں میں کی جارہی اناج کی تقسیم کے سلسلے میں معلومات دیتے ہوئے کہاکہ لاک ڈاو¿ن کے سبب شہر میں لوگ شدید معاشی مشکلات کا شکارہے اور ایک اندازے کے مطابق دس ہزار سے زائد لوگوں کو دو قت کے کھانے پینے کےلئے راشن کی ضرورت ہے ۔اس اس مسئلہ کے حل کےلئے کل جماعتی تحریک بھی کوششیں کررہی ہے ۔اب تک شہر کے کئی علاقوں میں محلہ واری کمیٹیوں کے ذریعہ غریب اور ضرورت مند لوگوں میں بلا لحاظ مذہب وملت راشن کٹ تقسیم کی جاچکی ہے ۔مزید دس ہزار خاندانوں میں راشن کٹ تقسیم کرنے کا منصوبہ ہے جلد ہی اس نشانہ کو بھی حاصل کرلیا جائے گا۔اس کے لئے اہل خیر حضرات سے بھی مالی تعاون پیش کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے ۔

 

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading