ناندیڑ: 8مئی (ورق تازہ نیوز) ناندیڑ دیہی پولیس اسٹیشن میں 4 مئی کو ہونے والے قتل اور حملے میں نیا موڑ آگیا ہے۔ اس جرم کی پولیس ایف آئی آر میں تین نام ہیں۔ تاہم اس معاملے میں مقتول کے بھائی نے پولیس سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میں درخواست دائر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ہم نے ایف آئی آر میں نو افراد کو نامزد کیاتھا۔شیخ یونس شیخ امین کی طرف سے داخل کردہ درخواست کے مطابق وہ 4 مئی کو صبح 11 بجے ہمت نگر میں اپنے والدین کے گھر آیا تھا۔ تقریباً 3.30 بجے میرے بھائی شیخ فاروق نے بتایا کہ اس نے بالٹی فیکٹری کے قریب مجھے بدتمیزی کی اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔
جب میں ‘ میرا بیٹے سہیل اور بھائی رمضان وہاںپہنچے تو ، صمد، مختار، سہیل، منا، ببو، بشیر، سلمان، الطاف، سائل سب نے ہمیں پتھر، کلہاڑی اور خنجر سے مارنا شروع کردیا۔ میرا بھائی فاروق موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ ایک اور بھائی تشویشناک حالت میں یاشوسائی ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ جب کہ ہم نے ناندیڑ دیہی پولیس پولس اسٹیشن میں 9 افراد کے ناموں کا ذکر کیا تھا، لیکن ایف آئی آر میں صرف تین کے نام شامل کیے گئے ہیں۔5 مئی کو ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد، میں 6 مئی کو دوپہر 12 بجے ناندیڑ دیہی پولیس سٹیشن میں ایف آئی آر درج کاپی لانے گیاتو ایف آئی آر میں صمد، مختار اور سہیل کے نام درج تھے۔ جب وہاں موجود سب انسپکٹر آف پولیس (میں نام نہیں جانتا) سے پوچھا کہ تینوں نام ہی ایف آئی آر میں درج ہے جبکہ باقی منا، بابو، سلمان، بشیر، الطاف، سائل کے نام حذف کئے گئے ۔ اس آفیسر نے کہاکہ دوسرے صاحب سے پوچھا جائے ۔درخواست میں مزید کہاگیا ہے کہ پولیس سپرنٹنڈنٹ ایف آئی آر میں تمام ملزمین کے ناموں کااندراج کرکے ہمیں انصاف دیاجائے ۔دونوں گروپ میں جنوری میں آپس میںجھگڑاہواتھا۔