ناندیڑ/بیدر ورق تازہ نیوز) – محبت کی رنگ برنگی دنیا میں پروان چڑھا ایک رشتہ آخرکار خون کے رنگ میں نہا گیا۔ شادی شدہ خاتون کے ساتھ عشق کے تعلق نے ایک 21 سالہ نوجوان کی جان لے لی۔ محبت کے جال میں پھنسے اس نوجوان کو خاتون کے رشتہ داروں نے بے دردی سے مارپیٹ کر اذیت دی، جس کے نتیجے میں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔یہ دل دہلا دینے والا واقعہ مدکھیڑ تعلقہ کے گونےگاؤں اور بیدر ضلع کے ناگمپلی دیہاتوں کے درمیان پیش آیا۔ہلاک نوجوان کی شناخت وشنوکانت پانچال (عمر 21 سال، ساکن گونےگاؤں، تعلقہ مکھیڑ) کے طور پر ہوئی ہے۔اس کے ایک شادی شدہ خاتون سے محبت کے تعلقات تھے، مگر یہ رشتہ انجام کے طور پر موت کا پیغام لے آیا۔
21 اکتوبر کو شادی شدہ خاتون کے رشتہ دار گجانن اور اشوک نے وشنوکانت کو ناندیڑ ضلع سے بیدر ضلع میں بلایا۔محبت کا یہ سفر اندھیروں میں ختم ہوا، کیونکہ ناگمپلی گاؤں میں اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر بے دردی سے مارپیٹ کی گئی۔ اس ظالمانہ تشدد کے بعد وشنوکانت کو تشویشناک حالت میں حیدرآباد اسپتال منتقل کیا گیا، مگر 22 اکتوبر کو اس نے دم توڑ دیا۔
چند روز قبل ہی اُمری علاقے میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا تھا، جہاں ایک لڑکی اور اس کے عاشق کو گھر والوں نے قتل کر کے کنویں میں پھینک دیا تھا۔
اب وشنوکانت پانچال کے قتل نے ایک بار پھر کئی سوال کھڑے کر دیے ہیں—❓ کیا محبت کرنا جرم ہے؟
❓ اور غیرت کے نام پر کسی کی جان لینے کا حق آخر کس نے دیا؟