اردھا پور:(ناندیڑ) 20اگست(ورق تازہ نیوز)مدکھیڑ تعلقہ کے مینڈکا کے کورے بینواڈ خاندان نے دن رات کام کرکے ترقی کی ہے۔ اس خاندان نے ہمیشہ معاشرے کو سمت دینے کا کام کیا۔ لیکن پہلے المناک واقعے سے سنبھلتے ہوئے دوسری بار بھی غم ایک ہی خبر آتی ہے اور اس سے پہلے کہ دونوں واقعات سے خود کوسنبھال لیتے پھر تیسری بار بھی غم کی خبر آتی ہے۔
جب وقت آتا ہے تو سب کو دنیا کو الوداع کہنا پڑتا ہے لیکن 10 ماہ کے اندر ایک ہی خاندان کے تین افراد کی موت کا دل دہلا دینے والا واقعہ کورے بینواڑ خاندان کے ساتھ پیش آیا۔ 19 اکتوبر 2021 کو لکشمن راو کورے بین واڈ کا کورونا کی وجہ سے انتقال ہوگیا۔ کورے بین واڈ کا خاندان کسی طرح انتقال کے درد سے نکل چکا تھا۔ دریں اثنا، چھ ماہ بعد 16 اپریل 2022 کو، رنجنابائی اور کرشنا ناندیڑ-ناگپور قومی شاہراہ پر حادثے کا شکار ہو گئے۔ اس میں رنجن بائی کی موت ہو گئی۔ جبکہ شدید زخمی کرشنا کا علاج ناندیڑ، حیدرآباد، پونے میں کیا گیا۔ علاج کے لیے کھیت اور زمینیں بیچ دی گئیں، مدد کرنے والے بہت سے ہاتھ آگے آئے۔
تاہم، تقریباً نصف کروڑ روپے خرچ کرنے کے باوجود، چار ماہ کے طویل علاج کے بعد، کرشنا، جو طب کی تعلیم حاصل کر رہا تھا، اپنی زندگی کی جنگ ہار گیا۔ ان کا انتقال 15 اگست کو ہوا۔ پونے میں کرشنا کی لاش کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ خاندان کے چار میں سے تین کی موت سے اکیلا رہ جانے والے سب سے چھوٹے بیٹے گنگارام عرف گرو پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔کرشنا کو والدہ کی موت کی اطلاع حالت تشویشناک ہونے کی وجہہ سے نہیں دی گئی تھی ۔کرشنا کاچھوٹابھائی گنگارام عرف گرو اپنے بھائی کی تیمار داری کررہاتھاہرممکن کوشش کی مگر قسمت کے آگے وہ بھی ہارگیا اورآخر کار گھر کے تیسرے فرد کرشنا کی بھی موت ہوگئی۔