ناندیڑحلقہ جنوب سے کسی مسلمان کو امیدوار بنانے کانگریس کا فیصلہ؟

ناندیڑ:4 جولائی۔(ورق تازہ نیوز)مہاراشٹرودھان سبھاالیکشن اکتوبر کے دوسرے یاتیسرے ہفتہ میں منعقد ہورہے ہیں ۔ اس لئے قلیل مدت کے باقی رہنے کی وجہ سے کانگریس پارٹی نے خواہشمند امیدواروں سے درخواستیں طلب کی ہیں اور 6جولائی درخواست داخل کرنے کی آخری تاریخ ہے ۔ناندیڑ جہاں کانگریس کے شوک راوچوہان مضبوط قدآور قائد مانے جاتے ہیں پارٹی پراپنی مضبوط گرفت رکھتے ہیں ۔

ناندیڑ شہر میں ودھان سبھا کے دو حلقے ناندیڑ شمال اورناندیڑ جنوب ہیں۔باوثوق ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ کانگریس پارٹی اور خو د اشوک راو چوہان چاہتے ہیں کہ اس بار ان دونوں حلقوں میں سے حلقہ جنوب سے کسی طاقتور امیدوار کوٹکٹ دیاجائے اس لئے حلقہ سے تقریبا 8 تا 10خواہشمند امیدواروں نے الیکشن لڑناطئے کیا ہے اور وہ آج 4 جولائی کو ممبئی کےلئے روانہ ہورہے ہیں ۔ وہ ممبئی کے پارٹی آفس واقع تلک نگر میں اپنا درخواست فارم داخل کریں گے۔

ان خواہشمند امیدواروں میں سابقہ میئر عبدالستار ‘ سابقہ چیرمین اسٹینڈئنگ کمیٹی میونسپل کارپوریشن ‘ مسعود احمدخان ‘عبدالشمیم عبداللہ ‘ کے علاوہ عبدالسلام چاول والا کے نام شامل ہے ۔ ان سبھی خواہشمند امیدواروں نے الیکشن لڑنے کی پوری تیاری کرلی ہے لیکن ان میں سلام چاول والا ‘اشوک راو کے دیرینہ ‘ با اعتماد اور وفادار ورکر ہیں ۔

سلام چاول والا نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ وہ 1987 میں کانگریس پارٹی میں داخل ہوئے تھے اور آج تک اسی پارٹی سے وابستہ ہیں۔ وہ اشوک راو کو اپنا قائد مانتے ہیں ۔انھوں نے بتایا کہ وہ 1987 میں ناندیڑ شہر یوتھ کانگریس کے سیکریٹری بنائے گئے ‘ 1990تا2002 تک رہے ۔ ناندیڑ شہر یوتھ کانگریس کے نائب صدر رہے ۔ انھوں نے ناندیڑ این ایس آئی یو میں خدمات انجام دیں ۔اور 2005 سے کانگریس شہر ناندیڑ کے جنرل سیکریٹری ہیں ۔اسلئے کانگریس پارٹی کے ٹکٹ کے وہ سب سے زیادہ حقدار ہیں ۔

مسعود احمد خان دیگلورناکہ ناندیڑ کے ہردلعزیز قائد ہیں وہ ابتداء ہی سے کانگریس پارٹی میں ہیں ۔ گزشتہ میونسپل کارپوریشن چناو میں وہ کانگریس کے ٹکٹ پر کارپوریٹر منتخب ہوئے تھے ۔ واضح ہو کہ ناندیڑ جنوب حلقہ سے شیوسینا کے ہیمنت پاٹل ایم ایل اے ہیں لیکن انھوں نے حالیہ لوک سبھا چناو ہنگولی حلقہ سے لڑا اور رکن پارلیمان ( لوک سبھا) منتخب ہوئے ہیں ۔ اس لئے اُن کا ناندیڑ اسمبلی الیکشن لڑنے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے ۔البتہ انکی شریک حیات انتخابی میدان میں اتر سکتی ہیں ۔اُدھر بہوجن ونچت اگھاڑی بھی ناندیڑ کے دونوں حلقوں سے اپنے امیدوار کھڑے کرنے کی پوری تیاری میں ہے ۔ ایم آئی ایم ‘ونچت اگھاڑی میں شامل ہے اس لئے ایک حلقہ سے کسی مسلمان کو اور دوسرے حلقے سے کسی دلت کو امیدوار بنایاجاسکتا ہے ۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading