عائشہ ڈاکٹر شبیہہ کا رنگون والا کالج پونے کے بی ڈی ایس میں داخلہ
ناندیڑ:7 فروری۔( ورق تازہ نیوز) یہ اللہ رب العزت کا بڑا کرم ‘ احسان وعنایت ہے کہ اُس نے ناندیڑ کے ایک ہی خاندان کے ساتویں فرد کو بھی میڈیکل کورس میں داخلہ دلوایا ۔ ناندیڑ کے معروف تاجر سماجی شخصیت مرحوم محمدشریف (موٹروالے) کے خاندان کی ایک ہونہار اور خوش نصیب لڑکی عائشہ بنت ڈاکٹر محمد شبیہہ احمدکاپونے کے معیاری ایم ۔اے ۔رنگون والا ڈینٹل کالج میں اوپن زمرے میںداخلہ ہوا ہے۔ عائشہ محمدشریف صاحب کی پوتی ہیں ۔ان کے والد ڈاکٹر محمد شبیہہ احمد جو ممبرا (تھانہ) میں صدیقی ملٹی اسپیشلٹی ہاسپٹل کے مالک اور معروف ماہرا مراض شوگر ہیں ۔ ان کابڑا فرزند عبداللہ ممبئی کے نامور KEM فل فارم کنگ ایڈورڈ میمورئیل ہاسپٹل اینڈ سیٹھ گووردھن داس سندرداس میڈیکل کالج ممبئی کے ایم بی بی ایس فائنل ائیر کاہونہار طالب علم ہے ۔
اس کاداخلہ بھی اوپن زمرے میں ہواتھا۔ اس کے عمدہ تعلیمی ریکارڈ کی وجہ سے اسے جماعت گیارہویں سے ہی اسکالرشپ منظور ہے ۔ عائشہ کی والدہ ڈاکٹر حلیمہ MBBS,DD. ماہر امراض جلد ہیں۔ عائشہ کے تایازاد بھائی ڈاکٹر محمد شارق MBBS, DNB , DCH ولد محمدتقی (مدیراعلیٰ ورق تازہ ناندیڑ)‘ ماہرامراض اطفال ہیں اور نائیگاوں (ضلع ناندیڑ) کے نوجیون چلڈرن ہاسپٹل کے مالک ہیں۔ ڈاکٹر شارق کی اہلیہ فرح تحسین ہاشمی (بہو محمد تقی ) MBBS, MD. (C medicine) ہیں۔
مرحوم محمدشریف کے منجھلے فرزند محمد نثار احمد کی چھوٹی دختر ثانیہ تسکین ناندیڑکے دیہی ڈیٹنل کالج اینڈ ریسرچ سنٹر میں BDS کے تھرڈ ائیر کی طالبہ ہیں۔ اس طرح ایک ہی خاندان کے سات افراد میں پانچ ڈاکٹربن چکے ہیں۔ اور دو بی ڈی ایس کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
اسی خاندان کے چار بجے مختلف ٹریڈ میں بی ای ہیں۔جن میں محمد انصار احمد کے فرزند محمد اویس احمد( بی ای)‘ میکینیکل (قطر)میں برسرروزگار ہیں۔یہاں اس بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ مرحوم محمد شریف صرف تیسری جماعت پڑھے ہوئے تھے لیکن اپنے بچوں کواعلیٰ تعلیم دلوانا ان کی زندگی کااہم مشن تھا۔
اس کے علاوہ اس خاندان کے بزرگوں نے شاید کچھ اچھے اورکارِ خیر کئے ہوںگے اس لئے یہ خاندان سُرخ رو ہورہا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس خاندان پراولیائے کرام کاسایہ بھی ہے کیونکہ خاندان نے جس گھر میں پرورش پائی تعلیم حاصل کی وہ شہر ناندیڑ کے بڑی درگاہ گاڑی پورہ میں واقع ہے جہاں اولیائے کرام کے آستانے ہیں۔
اعلیٰ تعلیم کے حصول کےلئے دولت یا خاندان کا تعلیمی پس منظر کوئی معنی نہیں رکھتا ہے ۔ اگر آدمی طئے کرلے کہ وہ کچھ بھی کرے گا لیکن اپنی اولاد کواعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کرے گا تواللہ تعالیٰ اس کی ضرور مدد کرتا ہے ۔ یہ رپورٹ اسی غرض سے شائع کی جارہی ہے۔