ناندیڑ:8/نومبر (ورق تازہ نیوز) آنے والے کچھ دنوں میں رام جنم بھومی بابری مسجد جیسے حساس مسئلے پر آئندہ چند روز میں ہندوستان کی اعلٰی ترین عدالت سپریم کورٹ سے فیصلہ کی توقع کی جارہی ہے۔ حکمران نظام ملک کا اعلی ترین عدالتی نظام ہے۔ جس پر تمام ہندوستانی عوام یقین رکھتے ہیں۔ اِس لیئے تمام ہندوستانی شہری سپریم کورٹ کے فیصلے کو ماننے کے پابند ہیں۔
اِس لیئے فیصلہ جو بھی آئے لیکن عوام کسی بھی طرح کی افواہوں پر دھیان نہ دیں اس طرح کی اپیل ناندیڑ کے ایڈیشنل پولیس سپرٹینڈنٹ دتہ رام راٹھوڑ نے کی ہے۔ بابری مسجد رام جنم بھومی فیصلے کو لیکر انہوں نے عوام کے لیے چند ہدایتیں جاری کی ہیں جس کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلہ کچھ بھی ہو لیکن واٹس ایپ، فیس بک یا دیگر سوشل میڈیا پر اِس بابت کمینٹ کرنا یا تنقید کرنا یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین ہوگی۔
ایسے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنا ضروری ہے۔ اِس لیئے عوام سے اپیل ہے کہ وہ اپنے ملک، ریاست، ضلع، شہر اور گاو¿ں میں امن و امان و اتحاد کو برقرار رکھتے ہوئے ضروری ہدایات پر عمل کریں جس کے تحت کسی بھی طرح کی بھیڑ کو جمع نہ ہونے دیں، سوشل میڈیا پر کسی بھی طرح کے پوسٹ نہ ڈالیں جس سے کسی بھی مذہب کے جذبات مجروح ہو اس کا خیال رکھیں۔ عدالتی فیصلے کے بعد گلال نہ اچھالیں، آتش بازی کا استعمال نہ کریں، موٹر سائیکل کے سائلینسر کو نکال کر گاڑیاں نہ بھگائیں، مہا آرتی یا اجتماعی عبادت نہ کریں، فیصلے کے بعد مٹھایاں تقسیم نہ کریں، کسی بھی طرح کی نعرے بازی نہ کریں، جلوس اور جلسے سے اجتناب کریں، بھاشن بازی نہ کریں، مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لئے جان بوجھ کر بیان بازی سے پرہیز کریں، مذہبی منافرت پھیلانے کی غرض سے ریاست کے یا دوسری جگہوں کے پرانے ویڈیو یا تصاویر پوسٹ کر افواہیں نہ پھیلائیں۔ سپریم کورٹ جو فیصلہ دے گا وہ صرف جگہ کی ملکیت کے بارے میں دے گا۔ ایڈیشنل پولیس سپرٹینڈنٹ دتہ رام راٹھوڑ نے مزید اپیل کرتے ہوئے انتباہ دیا کہ اگر کوئی مندرجہ بالا باتوں کی نافرمانی کرتے ہیں، نسلی تناو پیدا کرتے ہیں،
مذہبی جذبات بھڑکاتے ہیں یا ایسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 295 جس کے تحت کسی بھی طبقے کے مذہب کی توہین کرنے کے مقصد سے کسی عبادت گاہ کو نقصان پہنچانا یا اس کو ناپاک کرنا کے علاوہ دفعہ اے 295 کسی بھی طبقاتی مذہب یا مذہبی عقائد کے مذہبی جذبات کو دبانے کے مقصد کے لئے دانستہ اور برے طریقے سے کام کرنا اسکے علاوہ دفعہ 298 مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے و دیگر قوانین کے تحت فوری گرفتاری عمل میں آئے گی۔ اِس لیئے تمام شہریوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ امن و امان کو برقرار رکھیں۔ عوام کی ہر حرکت پر پولیس اور سائبر سیل کی نظر رہے گی۔