ناندیڑ:18 جنوری (منور خان)الحمدللہ اادارہ معھد ابوالحسن دیگلور ناکہ ناندیڑ میں حضرت مولانا سید واضح رشید حسنی ندوی سابق ناظم تعلیمات دارالعلوم ندوة العلماءلکھنو¿کے انتقال پر ملال پر بعد نماز مغرب ایک تعزیتی ودعائیہ نشست کا اہتمام کیا گیا جلسے کا آغاز ادارہ معھد ابو الحسن کے طالب علم محمد ارسلان سلمہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا بعدہ اداراہ کے ہی ایک طالب علم عمر بیگ نے نعتیہ کلام پیش کیا جلسے میں سب سے پہلے حضرت مولانا مجیب الدین صاحب ندوی امام وخطیب مسجد فاران نے حضرت مولانا رح سے متعلق اپنے زمانہ طالب علمی کی کچھ یادیں اور اپنے تاثرات پیش کئیے ان کے بعد حضرت مولانا آصف صاحب ندوی دامت برکاتھم شہر صدر جمعیہ العلماءناندیڑ نے مولانا مرحوم کی حیات وخدمات اور انفرادی خصوصیات پر تفصیلی روشنی ڈالی. پہر حضرت مولانا سعد عبداللہ صاحب ندوی دامت برکاتہم نے حاضرین مجلس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اکابر علماءاٹھتے چلے جا رہے ہیں اور ان کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا لہذا یہ ڈرنے کا وقت ہے اور ہمیں اپنے اکابرین کو اپنا رول ماڈل بنا کر ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔اخیر میں حضرت مولانا سرور قاسمی دامت برکاتہم صدر صفا بیت المال کی دعا پر تعزیتی نشست اختتام پذیر ہوئی۔نشست میں شہر کے معزز علماءکرام: مولانا طیب صاحب ندوی ،مولانا صدیق صاحب ندوی ،مفتی عبید الرحمن صاحب اشاعتی ،حافظ ہارون صاحب اشاعتی، مفتی ابراہیم صاحب قاسمی ،مولانا ارشد صاحب ندوی ،مفتی عبدالرزاق صاحب مظاہری مفتی فیروز قاسمی مفتی صدیق قاسمی مفتی عبدالواجد ندوی ،مولانا سلیم اشاعتی ،مولانا عبدالمقیت ندوی، ومقامی حضرات اور ادارہ کے اساتذہ وطلباءنے شرکت کی۔