اصلاحِ حال و مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے تاریخ کا مطالعہ ازحد ضروری : مفتی محمد خلیل الرحمن

ناندیڑ:18جنوری (شیخ اکرم) تاریخ کا مطالعہ حال و مستقبل کی اصلاح کے لئے ضروری ہے۔ جو قوم اپنے ماضی سے واقف نہیںہوتی وہ حال اور مستقبل کی صحیح منصوبہ بندی نہیں کرسکتی۔ تاریخ اسباق سے بھری ہوتی ہے جس کے آئینہ میں ہم اپنا جائزہ لے کر اصلاح کی جانب پیش قدمی کرسکتے ہیں۔ قرآن میں متعدد آیات میں انبیاءکرام و سابقین کی تاریخ کو بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان اُن سے نصیحت حاصل کرے۔ تاریخ کے مطالعہ کے بغیر کوئی انسان کامیاب زندگی نہیں گزار سکتا اور ایسا انسان بے شمار غلطیاں اور غلط فیصلے کر بیٹھتا ہے اور نقصان اٹھاتا ہے۔ اصلاحِ حال و مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے تاریخ کا مطالعہ ازحد ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز و محترم عالم دین حضرت مفتی محمد خلیل الرحمن صاحب قاسمی دامت برکاتہم نے انوارالمساجد میں خطبہ جمعہ سے قبل کیا۔ مفتی صاحب نے کہا کہ تاریخ کا سب سے بہترین دور سیرت و دورِ صحابہ ؓ کا گزرا ہے۔ اس لئے سیرت و دورِ صحابہ کا مطالعہ کرنا ہر مسلمان بالخصوص مسلم نوجوانوں کی اوّلین ذمہ داری ہے۔ اگر نوجوان سیرت النبیﷺ اور صحابہ کرامؓ کے حالات سے واقف نہ ہوتو وہ بصیرت کے ساتھ صراط مستقیم پر گامزن نہیں رہ سکتے۔ مفتی صاحب نے کہا کہ یہودی اور نصرانی سیرت النبیﷺ کا عمیق مطالعہ کرکے اس سے حاصل ہونے والی حکمتوں سے بھرپور استفادہ کررہے ہیں۔ انہوں نے ایک واقعہ کا ذکرکیا کہ 1973ءمیں عرب اور اسرائیلی جنگ میں عربوں کی شکست کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم گولڈ مائر سے امریکہ اسلحہ خریدنے کے بارے میں حکمت عملی کے بارے میں سوال کیا گیا تو اُس کا جواب تھا کہ میں نے یہ استدلال مسلمانوں کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی کے مطالعہ سے معلوم کیا تھا۔ کیونکہ جب محمدﷺ کا وصال ہوا تو ان کے گھر میں اتنی رقم نہیں تھی کہ چراغ چلانے کے لئے تیل خریدا جاسکے۔ لیکن اس وقت بھی محمدﷺ کے حجرے کی دیواروں پر نو تلواریں لٹک رہی تھیں۔ لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھے اور میری قوم کو بھوکا رہنا پڑے یا پختہ مکانوں کے بجائے خیموں میں زندگی بسر کرنا پڑے تو بھی اسلحہ خریدیں گے، خود کو مضبوط ثابت کریںگے اور فاتح کا اعزاز پائیں گے۔“ یہ حیرت انگیز واقعہ مسلمانوں کو جھنجھوڑ رہا ہے کہ سیرت النبیﷺ سے ایک یہودی نے تو سبق حاصل کیالیکن مسلم نوجوان سیرتﷺ سے ناواقف ہیں۔ اسی طرح مفتی صاحب نے ہیومیوپیتھک کے بانی ڈاکٹر سموئیل ہانیمن و کمیونزم کے بانی کارل مارکس کے سیرت سے متاثر ہونے کے واقعات کا ذکر کیا۔آخر میں مفتی صاحب نے کہا کہ مولانا محمد یوسف کاندھلویؒ نے اپنی تالیف کردہ کتاب حیاة الصحابہ کے ذریعہ صحابہ کرامؓ کے حالات سے اُمت کو واقف کرانے کی بے حد کوشش کی ہے ۔ نوجوانوںکو چاہئے کہ وہ ایسی کتابوں کا مطالعہ کریں جن سے سیرت النبیﷺ و صحابہ کرامؓ کے حالات زندگی سے واقفیت حاصل ہوتی ہو۔اُمت کے تعلیم یافتہ و اہل علم حضرات پر بھی لازم ہے کہ وہ نوجوانوںکو تاریخ اسلام، سیرت النبیﷺ و صحابہ کرام ؓکے حالات سے واقف کرانے کے لئے حتی الامکان کوشش کریں تاکہ وہ باطل کے سامنے متزلزل نہ ہوسکیںاور اُمت وسط کا کردار ادا کریں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading