ناندیڑ:19 فروری ۔(ورق تازہ نیوز)آن لائن تبادلے کے عمل میں جعلی دستاویزات پیش کرنے کے معاملے میں انکوائری کمیٹی نے اساتذہ کو قصور وار ٹھہرایا ہے ا س لے 51 اساتذہ کی اضافی تنخواہ روکنے کا حکم انتظامیہ نے دیا ہے ہے۔
اس کے علاوہ جعلکی دستاویزات داخل کرکے تبادلے کرنے والے23 اساتذہ کو دوبارہ اسی مقام پرواپس جانے کا حکم دیا گیا ہے ۔ مئی 2018 میں محکمہ تعلیمات نے پہلی مرتبہ آن لائن طرز پر تبادلوں کی کونسلنگ کا عمل کیا تھا اس عمل میں ناندیڑ ضلع کے چار ہزار58اساتذہ کے تبادلے کیے گئے تھے لیکن اس کے بعد یہ شکایت موصول ہوئی کہ کچھ اساتذہ نے آن لائن تبادلے کے عمل میں جعلی دستاویزات پیش کئے ہیں اور اس کا فائدہ اٹھایا ہے۔ جس کے بعد ضلع پریشد نے اساتذہ کے دستاویزات کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا جس کے لیے ایڈیشنل چیف ایگزیکٹو آفیسر شرد کلکرنی کی زیر صدارت کمیٹی تشکیل دی ۔
جس نے دو مرحلہ میں ان اساتذہ کی سماعت کی۔ پہلے دن 48 اور دوسرے دن 44 اس طرح کل92 اساتذہ کو سماعت کے لیے کمیٹی کے روبر طلب کیا گیا تھا۔ اس دوران کمیٹی کوعلم ہوا کہ کچھ اساتذہ نے جعلی دستاویزات پیش کرکے اپنے تبادلے کیے ہیں۔ ان اساتذہ نے جعلی میڈیکل سرٹیفیکٹ اور دیگر دستاویزات داخل کئے ہیں اس لئے ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ۔
اس دوران ضلع پریشد کے محکمہ تعلیمات کے چیئرمین مادھو راو¿ مساڑ کی زیرصدارت تعلیمی کمیٹی کے اجلاس میں اساتذہ کے اس عمل پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے یہ طے ہوا ہے کہ آن لائن تبادلے کے عمل میں اہل قرار دیے گئے تمام چار ہزار سے زائد اساتذہ کے دستاویزات کی تفتیش کی قرارداد منظور کی گئی لیکن یہ قرارداد صرف کاغذ تک ہی محدود رہی۔ دریں اثناء قصوروار پائے گئے51 اساتذہ کی ایک سال کی اضافی تنخواہ روکنے کا نوٹس انتظامیہ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے اس کے علاوہ جن23 اساتذہ کے جن مقامات سے تبادلے ہوئے ہیںانھیں دوبارہ سابقہ مقام پر جانے کاحکم دیاگیاہے ۔ اس کاروائی سے ضلع پریشد اساتذہ میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔