ناندیڑ،:بدنام زمانہ گینگ کے سرغنوں اور مجرموں کا جیل میں قائم نیٹ ورک تباہ

ناندیڑ، 22 اگست: ناندیڑ شہر میں منظم جرائم کے ذریعے عام شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے، گینگ وار کے نتیجے میں پرتشدد واقعات، جبری وصولی، سپاری لے کر قتل اور قتل کی کوشش جیسے سنگین جرائم میں ملوث جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نیلاب روہن نے سخت قدم اٹھایا ہے۔ناندیڑ ضلع جیل میں ایک ہی مقام پر بند بدنام زمانہ گینگ کے سرغنوں اور ان کے ساتھیوں کو سکیورٹی کے پیش نظر ریاست کی مختلف مرکزی اور ضلعی جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ناندیڑ شہر میں مختلف سرگرم جرائم پیشہ گینگ کے ارکان اور سرغنوں کے خلاف قتل، قتل کی کوشش، جبری وصولی، دہشت پھیلانے اور منظم جرائم کی سرگرمیوں کے سلسلے میں مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ (MCOCA/موکوکا) کے تحت سخت کارروائی کی گئی تھی۔

مذکورہ تمام عادی مجرم ناندیڑ ضلع جیل میں ایک ہی جگہ موجود تھے۔ اس وجہ سے قیدیوں کے باہمی تعلقات، جیل کی داخلی سلامتی، انتظامی امور اور شہر کی امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے خطرات پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔ اسی پس منظر میں ناندیڑ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے محکمہ جیل خانہ جات کے ڈائریکٹوریٹ جنرل کو خصوصی تجویز پیش کی گئی تھی۔اس تجویز کے مطابق محکمہ داخلہ، جیل و اصلاحی خدمات، ڈائریکٹوریٹ جنرل، مہاراشٹر ریاست، پونے کے احکامات اور معزز عدالت کی اجازت کے بعد درج ذیل 7 عادی مجرموں کو مختلف جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے:


1۔ کیلاش جگدیش بیگانیا۔2۔ انیل عرف پنجابی سریش پوار۔3۔ سائی سنگھ عرف لالا دیپک سنگھ گیرنہوار۔4۔ ایشور سنگھ جینت سنگھ گیرنی والے۔5۔ سریندر سنگھ عرف سورج جگت سنگھ گاڑی والے۔6۔ آشو پاٹل عرف کملیش بالاجی لمباپورے۔7۔ مرزا شبّر بیگ مرزا غفار بیگ


پولیس انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ناندیڑ ضلع اور شہر کے علاقوں میں جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث، غیر قانونی اسلحہ رکھنے یا شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے والے کسی بھی جرائم پیشہ گروہ کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔پولیس سپرنٹنڈنٹ ناندیڑ نے انتباہ دیا ہے کہ شہر میں امن و امان اور شہریوں کی سلامتی برقرار رکھنے کے لیے پولیس انتظامیہ کی جانب سے تمام ضروری سخت قانونی اقدامات مسلسل جاری رکھے جائیں گے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading