عمیر کی ماں نے جیسے ہی اس کے سامنے کھانا پیش کیا، کھانے کو دیکھ کر عمیر آگ بگولہ ہوگیا۔
اس نے غصہ میں برتن کو سرکاتے ہوئے کہا: "تنگ آگیا ہوں میں روز روز دال کھا کر، آخر یہ غریبی کب ہمارا پیچھا چھوڑے گی!!!!اللہ تعالی کو بھی ہم ہی ملے تھے، جو اس نے ہمارے لیے اپنے ہاتھ تنگ کرلیے!!!”
عمیر کی باتیں سن کر اس کی ماں دل برداشتہ ہوگئی، کہنے لگی، "بیٹا!! اللہ کا شکر ادا کرو، کہ اس نے بھی تو ہمیں دو وقت کی روٹی نصیب کی ہے!!! ورنہ دنیا میں ایسے کئی لوگ ہے جو دو وقت کی روٹی کے لیے ترستے ہیں۔!! کسی کو تو یہ دال بھی نصیب نہیں!! ہم جس حال میں ہے اس حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ ہم سے نیچے بھی کئی لوگ ہے جو ہم سے زیادہ خستہ حال زندگی گزارنے پر مجبور ہیں!!!”
عمیر کی طرح ہمارے اطراف ایسے کئی لوگ ہیں جو ناشکری میں مبتلا ہیں جو اپنی موجودہ حالت سے خوش نہیں ہے اور ہر وقت شکایتیں کرتے نظر آتے ہیں قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتا ہے”اگر تم شکر ادا کرو تو ہم تمھیں مزید دیں گے” (سورہ ابراہیم: 7)
لیکن آج اسکے برعکس معاملہ ہے انسان اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی بجائے ناشکری کرتا ہے وہ ان تمام نعمتوں کو بھول جاتا ہے جو خدا نے عطا کی ہوتی ہے بلکہ اللہ سے ان نعمتوں کے لیے شکایت کرتا ہے جس کا نا ملنا یا تو اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے یا اس کی آزمائش ہوتی ہےاور جس طرح ہر شخص کی صورت مختلف ہوتی ہے اسی طرح ان کی تقدیریں بھی الگ الگ ہوتی ہے جس کی تقدیر میں جو لکھا ہے وہ اسے مل کر رہتا ہے اور جو نہ لکھا ہو وہ ہزار کوششوں کے باوجود بھی نہیں ملتا۔ لیکن انسان کا ذہن ان تمام باتوں کو سوچنے سے قاصر ہوتا ہے۔
اسے اپنی زندگی میں تمام قسم کی آسائیشیں چاہیے ہوتی ہے اگر اسے ذرا سی بھی تکلیف کا سامنا ہو تو وہ فورا اللہ سے شکایت شروع کر دیتا ہے۔
مختلف انسان مختلف طریقوں سے ناشکری کرتے ہیں کوئی حالت کا رونا روتا ہے، تو کوئی نعمتوں کا غلط استعمال کرکے ناشکری کرتا ہے، مثلاً کوئی اپنی موجودہ زندگی سے پریشان ہے، کوئی غریبی کا رونا رو رہا ہے، کوئی پروفیشنل لائف میں باس کی کٹ کٹ سے پریشان ہے، نوکری کرنے والے گھر میں رہنے کے لیے ترستے ہیں تو گھر کی چاردیواری میں رہنے والی عورت باہر کی دنیا دیکھنے کو بے تاب ہے۔ اسی طرح کوئی دولت کا غلط استعمال کرتا ہے تو کوئی اپنی صحت کو غلط کاموں کو کرنے میں صرف کرتا ہے غرض ہر طرح سے انسان نا شکری میں لگا رہتا ہے اور یہ نا شکری اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہر معاملات میں دوسروں سے موازنہ کرتا ہے وہ جس حالت میں ہے وہ اس سے بہتر اور اونچے درجہ کے لوگوں کی زندگی پر توجہ دیتا ہے اسے خود کی نعمتوں سے کوئی مطلب نہیں ہوتا وہ ہر وقت بس دوسروں کو ملنے والی نعمتوں پر نظر رکھتا ہےدوسروں کی زندگی اسے خوش رنگ نظر آتی ہے۔ حالانکہ اگر انسان اپنے سے نیچے درجہ پر زندگی گزارنے والوں کو دیکھے تو یقینا ً اس کی یہ نا شکری شکرگزاری میں تبدیل ہوجائے گی ہر وقت اس کی زبان پر "الحمدللہ” کی صدا جاری ہوگی۔ کیونکہ کئ لوگوں کی زندگی عبرت کی حیثیت رکھتی ہے کہ انسان اس سے عبرت حاصل کریں اور اللہ کا شکر ادا کریں۔ آج دن رات ہم کھلی فضا میں آزادی کے ساتھ سانس لیتے ہیں بنا کوئی قیمت چکائے لیکن ہیں اگر ہم ہسپتال کا چکر لگائے اور دیکھیں تو وہاں ایسے کئی لوگ بستر مرگ پر پڑے ہیں، اور مصنوعی سانس کے محتاج ہیں جس کے لیے انہیں بھاری سے بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے کوئی ہاتھوں سے معذور ہے، تو کوئی چل نہیں سکتا، کوئی آنکھوں جیسی نعمت سے محروم ہیں تو کوئی سماعت نہیں کر سکتا کوئی بدحالی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے، تو کسی کے سر پر چھت نہیں ، کسی کو تن ڈھانپنے کے لیے کپڑا میسر نہیں، کسی کو پیٹ بھر کھانا بھی نہیں ملتا ، کئی کئی دن فاقہ کشی میں گزر جاتے ہیں۔ غرض ایسے کئی لوگ ہیں جو بنیادی ضرورتوں سے بھی محروم ہیں۔ لہذا ایسے لوگ جنہیں اللہ نے ان تمام نعمتوں سے نوازا ہے وہ اللہ کا شکر ادا کریں کیونکہ کئ لوگوں کو یہ بنیادی نعمتیں بھی میسرّ نہیں۔ جو نعمتیں دستیاب ہیں اس پر خدا کا شکر ادا کیجیئے اس لیے کہ انسانوں سے وعدہ کیا گیا ہے "اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں مزید عطا کروں گا” اور یہ وعدہ کسی عام شخص کا نہیں یہ وعدہ رب العالمین کی طرف سے کیا گیا جس کے پورا ہونے میں کوئی شک نہیں۔
اللہ اپنے بندوں سے بے انتہا محبت کرتا ہے اور اس نے انسانوں کو دنیا میں آزمائش کے لیے بھیجا ہے تاکہ وہ یہ جان سکے کہ عمل میں کون زیادہ بہتر ہے؟ اور جب بہتر کے انتخاب کی بات ہو تو آزمائش بھی ویسی سخت ہی ہوتی ہے۔
اللہ اپنے بندوں کو نعمتوں سے نواز کر بھی آزما تا ہے اور اسے چھین کر بھی۔ یہ بندوں کا کام ہے کہ جن نعمتوں سے اس نے نوازا ہے اس پر اس کا شکر ادا کریں اور جس نعمت سے محروم رکھا ہے اس پر صبر۔
نا شکری سے بچنے کے لیے مندرجہ ذیل مشوروں پر عمل کیا جاسکتا ہے۔
دنیا وی معاملات میں اپنے سے نیچے درجے والوں کو دیکھے:
جب کبھی آپ کے دل میں خیال آئے کہ مجھے فلاں نعمت نہیں ملی!! میرے ساتھ برا ہوا!!! اس وقت آپ ان لوگوں کی طرف دیکھے جو اس نعمت سے بھی محروم ہے جو آپ کو میسر ہے تو یقینا ً آپ نا شکری سے بچ جائیں گے۔
قناعت پسندی کی عادت اپنائیں:
جب آپ قناعت پسندی کی عادت اپنائیں گے تو آپ کو کسی نعمت کے نہ ملنے پر غم نہیں ہوگا بلکہ آپ اسی میں شکر ادا کریں گے جو آپ کو ملے گااس سے آپ شکرگزار بھی بنیں گے اور ناشکری بھی نہیں کریں گے۔
اللہ کی دی گئی نعمتوں کا اعتراف کریں:
اللہ تعالی نے جن نعمتوں سے آپ کو نوازا ہے اس کا اعتراف کریں جب آپ اللہ کی عطا کی گئی بے شمار نعمتوں کا اعتراف کرے گے تو آپ کو اس کے مقابلے میں وہ نعمتیں بہت کم لگے گی جو نہیں ملی اس سے آپ میں شکر گزاری پیدا ہوگی۔
مثبت سوچ اپنائیں:
کسی بھی فساد کی جڑ ہماری خودساختہ منفی سوچ ہوتی ہیں۔ انسان ناشکری میں اسی وقت مبتلا ہوتا ہے جب وہ منفی سوچتا ہے اس لیے ہمیشہ مثبت سوچیں۔ جو نعمتیں نہیں ملی اس میں اللہ کی حکمت ہے جو میرےہی حق میں بہتر ہے۔
نعمتوں کو اللہ کی نافرمانی میں استعمال نہ کریں:
اللہ تعالی نے جن نعمتوں سے آپ کو نوازا ہے اس کا استعمال اس کی نافرمانی میں نہ کریں مثلاً دولت کو فضول اور ناجائز کاموں میں استعمال نہ کریں ،ہاتھ، پیر، آنکھوں کو گناہ کے کام کرنے میں نہ استعمال کریں کیونکہ شکرگزاری کا یہ بھی ایک طریقہ ہے کہ اللہ کی نعمتوں کو اس کے خلاف اس کی نافرمانی میں استعمال نہ کیا جائے۔