ناانصافی جاری رہی تو خالصتان کا مطالبہ کریں گے:سکھ یونین

جموں، 22 جون (یو این آئی) جموں کشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں میں سکھ یونین جموں کی طرف سے جمعہ کے روز قومی راجدھانی نئی دہلی میں چند روز قبل پولیس کے ہاتھوں ایک سکھ ڈرائیور کی پٹائی کے خلاف احتجاج درج کرتے ہوئے ایک احتجاجی نے کہا کہ اگر سکھوں کے ساتھ نا انصافی جاری رہی تو وہ خالصتان کا مطالبہ کریں گے۔احتجاجی ‘دلی پولیس ہائے ہائے، مودی سرکار ہائے ہائے، پولیس کو لگام دو، اقلیتی فرقوں پر ظلم کرنا بند کرو بند کرو’ کے نعرے لگا رہے تھے اور انہوں نے پلے کارڑس بھی ہاتھوں میں اٹھا رکھے تھے جن پر ‘دلی پولیس کے خلاف کیس درج کرو، جمہوریت کہاں ہے، سکھوں کے انسانی حقوق کہاں ہیں’ وغیر نعرے درج تھے۔س موقع پرنریندر سنگھ نامی ایک احتجاجی نے میڈیا کو بتایا کہ اگر سرکار اسی طرح سکھوں کو تنگ کرتی رہی تو ہمیں اپنا الگ راشٹر چاہئے۔انہوں نے کہا: ‘سال 1984 سے لگاتار سکھوں کو انصاف نہیں دیا گیا، یہ سکھ قوم کو خالصتان کی طرف خود ہی دھکیلتے ہیں اگر یہ سرکار سکھوں کو اسی طرح تنگ کرتی رہی تو ہمیں اپنا الگ راشٹر چاہئے’۔نریندر سنگھ نے کہا دلی میں دو نہتے سکھوں کے ٹارچر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک کی اکثریت اورحکمرانوں کی سکھوں اور اقلیتوں کے خلاف کیا ذہنیت ہے۔انہوں نے کہا: ‘ساری دنیا نے دیکھا کہ دلی میں دو نہتے سکھوں جو مجرم نہیں تھے، کو کس طرح ٹارچر کیا گیا ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اس ملک کی اکثریت اور حکمرانوں کی سکھوں اور اقلیتی فرقوں کے تئیں ذہنیت ہے کہ وہ کیا کرنے والے ہیں’۔نریندر سنگھ نے کہا کہ ملک میں جو فرقہ وارانہ ایجنڈا چلایا جارہا ہے اور جو ہندو راشٹر کی باتیں کی جارہی ہیں ان باتوں سے آج سکھ اور ملک کے تمام اقلیتی فرقے خوفزدہ ہیں۔بتادیں کہ قومی راجدھانی کے مکھرجی نگر پولیس تھانے کے باہر اتوار کی شام کو پولیس کے ہاتھوں ایک سکھ آٹو ڈارئیور کی پٹائی کا ویڈیو وائرل ہوا تھا جس میں دیکھا جاسکتا تھا کہ پولیس سکھ ڈرائیور کو لات، گھونسوں اور ڈنڈوں سے پیٹتی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading