"میرا-بھائندر میں مراٹھی شناخت کے حق میں جلوس، وزیر پرتاپ سرن ائیک نےکی شرکت — ’کابینی وزیر نے سب سے پہلے مراٹھی‘ کا دوٹوک پیغا م دیا”

"میرا-بھائندر میں مراٹھی شناخت کے حق میں جلوس، وزیر پرتاپ سرنائیک نےکی شرکت — ’کابینی وزیر نے سب سے پہلے مراٹھی‘ کا دوٹوک پیغام دیا"

میرا-بھائندر (آفتاب شیخ):

میرا-بھائندر شہر میں آج مراٹھی ایکتا سمیتی کی جانب سے مراٹھی شناخت، مقامی مراٹھی بولنے والوں کے حقوق اور انصاف کے مطالبات کو لے کر ایک زبردست احتجاجی مارچ نکالا گیا۔ اس مارچ کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ مہاراشٹر ریاست کے ٹرانسپورٹ وزیر اور دھاراشیو ضلع کے نگراں وزیر پرتاپ اندرا بائی بابوراؤ سرنائیک نے ذاتی طور پر اس میں شرکت کی اور مراٹھی قوم کے ساتھ اپنی مضبوط وابستگی کا اظہار کیا۔

یہ مارچ مراٹھی ایکتا سمیتی کے صدر گووردھن دیشمکھ کی قیادت میں نکالا گیا۔ مارچ شروع ہونے سے قبل، پولیس نے گووردھن دیشمکھ سمیت منسے اور سمیتی کے کئی کارکنان کو حراست میں لے لیا تھا، جنہیں وزیر سرنائیک نے فوری طور پر کاشی گاؤں اور نوگھر پولیس اسٹیشن پہنچ کر رہا کروایا۔

اس کے بعد وزیر سرنائیک نے جلوس میں شرکت کی اور اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "میں وزیر ہوں، پھر رکن اسمبلی… لیکن سب سے پہلے مراٹھی ہوں۔ جب بھی مراٹھی عوام پر ظلم ہوگا، میں عہدہ بھول کر ان کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔"

انہوں نے واضح کیا کہ ان کی شرکت کسی سیاسی مفاد کے لیے نہیں تھی بلکہ مراٹھی شناخت، عوامی جذبات اور مقامی لوگوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے تھی۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ پولیس نے کچھ منسے لیڈروں کو بغیر وجہ ’غنڈہ گردی‘ کے الزامات میں گرفتار کر لیا، جس سے ماحول کشیدہ ہوا۔

گزشتہ شب وزیر سرنائیک نے وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس سے ملاقات کرکے پولیس کے رویے پر تفصیلی گفتگو کی اور متعلقہ اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا، جس پر وزیر اعلیٰ نے مثبت ردعمل ظاہر کیا۔

اپنے بیان میں وزیر سرنائیک نے کہا، "چند لوگ میرے خلاف نعرے لگا کر ماحول خراب کرنا چاہتے تھے، مگر میں نے اپنی سماجی اور اخلاقی ذمہ داری نبھائی۔ مراٹھی عوام کے حق کے لیے میں ہمیشہ تیار ہوں۔ شہر میں امن اور قانون کی بحالی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔"

یہ احتجاجی مارچ پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوا، اور وزیر سرنائیک کے دوٹوک اور صاف موقف نے یہ ثابت کر دیا کہ حکومت میں رہتے ہوئے بھی عوامی جذبات کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہا جا سکتا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading