مہاکمبھ میں پھر لگی آگ، کئی ٹینٹ جل کر خاک، بہت مشکل سے پایا گیا آگ پر قابو

پریاگ راج :ایف آئی ار میں کہا گیا کہ ’میں 15 جنوری کو اپنے بچوں کے ہمراہ امریکہ سے لاہور پہنچا تھا جہاں چند روز گزارنے کے بعد 22 جنوری کو کوئٹہ آ گیا۔ 27 جنوری کی شب میں اپنی بیٹی حرا کے ہمراہ اپنے برادرِ نسبتی کے گھر جانے کے لیے نکلا۔ میں اور حرا ابھی گھر سے نکلے ہی تھے کہ مجھے معلوم ہوا کہ میری جیب میں میرے بھائی کا فون رہ گیا تھا جسے واپس کرنے کے لیے میں دوبارہ گھر میں داخل ہوا۔ جیسے ہی میں گھر کے اندر گیا تو باہر سے اچانک فائرنگ کی آواز آئی جبکہ میری بیٹی حرا نے ابو ابو کی آوازیں لگائیں۔‘

ملزم والد کی جانب سے ایف آئی آر میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ ’یہ آوازیں سُن کر میں باہر نکلا تو حرا شدید زخمی حالت میں گیٹ کے پاس پڑی تھی۔ میں نے محلہ داروں کے ہمراہ حرا کو ہسپتال پہنچایا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئی۔‘والد نے پولیس سے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی جس پر پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت یہ مقدمہ درج کر لیا۔پولیس ٹیم کی جانب سے ایف آئی آر میں لکھا گیا کہ جب وہ اطلاع موصول ہونے کے بعد ہسپتال پہنچے تو وہاں حرا کی خون میں لت پت لاش موجود تھی۔’

سرسری جسمانی معائنے میں معلوم ہوا کہ حرا کے بائیں بازو پر زخم کا نشان تھا جو جسم کے آر پار تھا جبکہ سینے کے بائیں جانب بھی آر پار زخموں کے نشانات تھے۔‘میڈیا رپورٹس کے مطابق جب ٹینٹس میں آگ لگی تو اس میں موجود سبھی عقیدتمند باہر نکل گئے۔ لوگوں کی سمجھداری سے ایک بڑا حادثہ تو ٹل گیا، لیکن جو چیزیں ٹینٹس میں موجود تھیں، وہ جل کر خاک ضرور ہو گئیں۔ مہاکمبھ کا سیکٹر 22 علاقہ جھوسی کے جھتناگ گھاٹ اور ناگیشور گھاٹ کے درمیان موجود ہے۔ جمعرات کو اچانک کچھ ٹینٹس میں آگ لگ گئی جس کے بعد لوگوں میں گھبراہٹ اور افرا تفری پیدا ہو گئی۔ فوراً لوگ ٹینٹس سے باہر کی طرف بھاگے اور فائر بریگیڈ کو بھی خبر دی گئی۔ آگ لگنے کی وجہ اب تک سامنے نہیں آ سکی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل 19 جنوری کو مہاکمبھ میں آتشزدگی کا بڑا حادثہ پیش آیا تھا۔ تب سیکٹر 19 میں بنائے گئے گیتا پریس کے پنڈالوں میں آگ لگ گئی تھی۔ آگ سے تقریباً 200 پنڈال جل گئے تھے اور کچھ سلنڈر کے دھماکہ کی خبر بھی سامنے آئی تھی۔ اس حادثہ کے بعد آسمان میں دھوئیں کا غبار پھیل گیا تھا۔ حالانکہ فائر بریگیڈ کی ٹیم نے وقت رہتے آگ پر قابو پا لیا تھا جس سے بڑا حادثہ ہونے سے ٹل گیا تھا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading