مہاراشٹر تنازعہ LIVE: سپریم کورٹ نے کل شام تک فلور ٹسٹ کرانے کا سنایا حکم

سپریم کورٹ نے 27 نومبر کی شام تک فلور ٹسٹ کرانے کا سنایا حکم

سپریم کورٹ نے شیوسینا، این سی پی اور کانگریس کے حق میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے 27 نومبر کی شام فلور ٹسٹ کرانے کا حکم صادر کر دیا ہے۔ بی جے پی نے عدالت عظمیٰ سے گزارش کی تھی کہ اکثریت ثابت کرنے کے لیے کچھ زیادہ دن کا وقت دیا جائے جسے نامنظور کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے اپوزیشن کا یہ بھی مطالبہ قبول کر لیا ہے کہ فلور ٹسٹ براہ راست ہوگا اور کسی بھی طرح کا سیکرٹ بیلٹ نہیں ہوگا۔


تینوں جج سپریم کورٹ پہنچے، تھوڑی دیر میں آئے گا فیصلہ

مہاراشٹر پر سپریم کورٹ سے تھوڑی دیر میں فیصلہ آنے والا ہے۔ پورے ملک کی اس پر نگاہیں مرکوز ہیں۔ تینوں جج عدالت پہنچ چکے ہیں اور فیصلہ سنانے کے لیے بیٹھ چکے ہیں۔


این سی پی قانون ساز پارٹی لیڈر سے متعلق خط مہاراشٹر قانون سازیہ سکریٹریٹ میں موصول

مہاراشٹر قانون سازیہ کے سکریٹری راجندر بھاگوت نے این سی پی قانون ساز پارٹی لیڈر معاملہ پر ایک بیان میڈیا کو دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’سکریٹریٹ کو ایک خط موصول ہوا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جینت پاٹل این سی پی قانون ساز پارٹی کے لیڈر ہیں۔ لیکن فیصلہ اسپیکر کو لینا ہے۔ فی الحال اس پر کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔‘‘


شیوسینا لیڈر سنجے راؤت نے ٹوئٹ کیا ’انتظار کیجیے اور دیکھیے‘

مہاراشٹر تنازعہ پر سپریم کورٹ آج 10.30 بجے فیصلہ سنانے والا ہے اور اس سے قبل شیوسینا لیڈر سنجے راؤت نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’162 اور مزید… انتظار کیجیے اور دیکھیے!‘‘ واضح رہے کہ شیوسینا-این سی پی-کانگریس نے پیر کی شام ممبئی کے ہوٹل حیات میں اپنے 162 اراکین اسمبلی کی میڈیا کے سامنے پریڈ کرائی تھی۔ سنجے راؤت کا ٹوئٹ اسی کے پیش نظر ہے اور انھوں نے واضح کیا ہے کہ شیوسینا-این سی پی-کانگریس کو حمایت دینے والے اراکین اسمبلی کی تعداد 162 سے بھی زیادہ ہوگی۔


مہاراشٹر تنازعہ پر سپریم کورٹ آج 10.30 بجے سنائے گا فیصلہ

مہاراشٹر میں دیویندر فڑنویس نے وزیر اعلیٰ کا حلف تو لے لیا لیکن شیوسینا، این سی پی اور کانگریس ان کے خلاف سپریم کورٹ پہنچ گئی۔ پیر کو معاملہ پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ آج صبح 10.30 بجے اس سلسلے میں فیصلہ سنانے والا ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading