ممبئی:8جون ۔(ورق تازہ نیوز)لوک سبھا الیکشن میں زبردست شکست کھانے کے بعد کانگریس پارٹی کے قائدین بہوجن ونچت اگھاڑی سے اتحاد کے بارے میںسنجیدگی سے سوچ رہے ہیںتاکہ مسلم ۔دلت ووٹرس کودوبارہ کانگریس پارٹی سے جوڑا جاسکے ۔جمعہ 7جون کو ممبئی کے کانگریس پارٹی آفس میں پردیش صدر اشوک راو چوہان کی صدارت میں کانگریس کے ضلع واری اجلاس ہوئے ۔ پارٹی ورکرس اور عہدیداران نے یہ شکایت کی کہ اگر راشٹر وادی کانگریس سے اتحاد ہواتو راشٹروادی کے ورکرس اور لیڈرا ن کانگریس امیدواروں کاپرچار نہیںکرتے ہیں ۔ اس لئے ونچت اگھاڑی کے ساتھ اتحاد کیاجائے ۔ اس طرح کامطالبہ ہرضلع کے عہدیداران نے پردیش صدر سے کیا ۔ اسمبلی چناو کی قبل از تیاری کےلئے تلک بھون میں کانگریس کے ضلعی یونٹ کے اجلاس منعقد ہوئے ۔ اجلاس میں اشوک چوہان ‘ملک ارجن کھرگے ‘ مہاراشٹرکے انچارج ‘ سشیل کمار شندے ‘ ہرش وردھن پاٹل‘ بالاصاحب تھورات ‘ وغیرہ کے علاوہ سابقہ اورموجودہ اراکین اسمبلی ‘ضلع پریشد‘ میونسپل کارپوریشن و کونسل ‘ سابقہ اور موجودہ اراکین او رضلع کے عہدیدران نے شرکت کی ۔ اسی اجلاس میں ناندیڑ ضلع اور شہر کے تمام عہدیداران نے اپنے استعفے دے دئےے ۔ ان میں شہر صدر امرراجورکر بھی شامل ہے ۔ واضح ہو کہ حالیہ لوک سبھا چناو میںونچت اگھاڑی نے ریاست کی تمام 48سیٹوں پراپنے امیدوار کھڑے کئے تھے اور ان امیدواروں نے دلتوں اورمسلمانوں کے ایک گٹھا ووٹ حاصل کرکے کانگریس اور راشٹر وادی کانگریس کے تقریبا 40 امیدواروں کوشکست کاراستہ دیکھایا ۔ کانگریس پارٹی اب تک مسلم اور دلت ووٹوںپر کامیاب ہوتی رہی ہے لیکن اس باربہوجن اگھاڑی نے کانگریس کے روایتی ووٹ بینک پرشب خون مارا ۔واضح ہو کہ ونچت اگھاڑی میں ایم آئی ایم بھی شامل ہے ۔جس کی وجہ سے مسلم ووٹ اگھاڑی کی طرف گیا ۔ اس طرح کا تجزیہ کانگریس پارٹی کے تھنک ٹینک نے کیا ہے۔