ممبئی ،18جون. مہاراشٹراسمبلی کے موسم باراں اجلاس کے دوسرے آج یہاں وزیر مالیات سدھیر منگٹی وار نے فڑنویس حکومت کا آخری 20 ہزار 292 کروڑ 94 لاکھ کا خسارہ کا بجٹ پیش کیا جس میں اقلیتوں کی فلاح وبہبود پر محض 100کروڑروپے مختص کیے گئے ہیں۔جبکہ 2019-20 میں کل محصول خرچ 3لاکھ 34 ہزار 933 کروڑ 6 لاکھ روپئے ہوگا،اورکسانوں کے لئے سوغات دی کا اعلان کیا گیا ہے۔سدھیر منگٹی وار نے اس بجٹ میں کسی طرح کی نئی اسکیم کو متعارف نہیں کروایا ،البتہ بجٹ میں 100 کروڑ روپئے اقلیتوں کے مختص کیے گئے ہیں جوکہ ”سب کا ساتھ ،سب کا وکاس “ کے نعرہ کے برخلاف ہے۔کیونکہ مہاراشٹر اسمبلی کے انتخابات آئندہ ستمبر۔اکتوبر میں منعقد ہوں گے ،اس لیے بجٹ میں شہریوں پر کوئی نیا ٹیکس نہیں عائد کیا گیا ہے اور الیکشن کو ذہن میں رکھ کر پیش کیا گیا ہے۔اقلیتوں کے لیے بجٹ میں سوکروڑمختص کیے جانے پراپنے ردعمل میں ایوان میں ڈپٹی لیڈر اور سنیئرکانگریسی ایم ایل اے عارف نسیم خان نے کہا کہ بجٹ میں اسے پیش کیے جانے کے بعد محکمہ مالیات میں اس کی منظوری کو دومہینے لگ جائیں گے اور اس کے بعد اسمبلی الیکشن کا اعلان ہوجانے سے انتخابا ضابطہ نافذ ہوجائے گا ،جس کے پیش نظر عمل ناممکن ہے اور 100 کروڑ میں اضافہ کا بھی انہوںنے مطالبہ کیاہے۔اسمبلی کے ایوان میں بجٹ پیش کرتے ہوئے منگٹی وار نے کہا کہ اقلیتوں خواتین و اطفال اور نوجوانوں کو روزگار کےلئے100 کروڑ روپئے فراہم کئے جائیں گے ، اس کے علاوہ نکسل واد سے متاثر علاقوں میں روزگار کے فروغ کےلئے 500 کروڑ روپئے کا تخمینہ ہے جس میں 150 کروڑ کا اضافی بجٹ رکھا گیا ہے۔
انہوںنے مزید کہا کہ دسویں اور بارہویں جماعت کے طلبا کو ہنر مندی سے وابستہ کر نے کےلئے ”کوشل وکاس یوجنا“ سے وابستہ کیا جائے گا۔جبکہ دھنگر سماج کو 1000 ہزار کروڑ روپئے مختلف اسکیمات کے تحت فراہم کئے گئے ہیں۔ معذوروں کےلئے گھر فراہمی میں 100 کروڑ روپئے فراہم دیئے جائیں گے جبکہ لوک شاہی انا بھآ ساٹھے جن شتابدی یوجنا پر 100 کروڑ روپئے اور سنجے گاندھی نیرا دھار یوجنا کے تحت استفادہ کر نے والوںکی امدادکو 600 سے 900 روپیہ فی ماہانہ کر دیا گیا ہے، بیوہ راحت اسکیم کےلئے اب 1200 روپیہ ماہانہ فراہم کیے جائیں۔ اس بجٹ میں شہریوں پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیاہے۔وزیرمالیات کے مطابق ممبئی پونے شاہراہ کے لئے 6 ہزار695 کروڑ روپے مختص کیے جانے کے ساتھ ساتھ مہاتما گاندھی کی 150 ویں جینتی کےلئے سرکار نے ان کے نظریات کے فروغ کےلئے 150 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ مختلف اسکیمات میں بجٹ کے دوران شہری سہولیات پر توجہ دےنے کے لیے حکومت مہاراشٹر نے باندرہ اورورسوا کے درمیان بحری راستہ کےلئے 11 ہزار 3 سو 33 کروڑ روپئے پیش کیے ہیں ،مذکورہ منصوبہ پانچ سال میں مکمل کر لیا جائےگا۔ممبئی کی سڑکوں کے لئے 17 ہزار 8 سو 43 کروڑدیئے جائیں گے ، اور حکومت میں بجٹ میں اس کے لیے ستمبر 2022 کی تاریخ مقررکی ہے۔ اس کے ساتھ دیہی اضلاع کی ترقی کےلئے گرام پنچایت کے اعزازی رکن کی اعزازی تنخواہ بڑھانے کےلئے 200 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔
سدھیر منگٹی وار نے بجٹ پیش کر تے ہوئے اپوزیشن پر نکتہ چینی کی اور ان کا دعوی تھا کہ آئندہ بھی ہم ہی بجٹ پیش کریں گے،بابائے قوم مہاتما گاندھی کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر 150 کروڑ روپئے مختص کر نے کا اعلان کیا اور کہا کہ مہاتما گاندھی کے نظریات پرعمل کرکے ہی ہم آئندہ اپوزیشن کو شکست دیں گے یعنی انہیںڈبو دیں گے،ان کے اس جملہ پر ایوان میں شور شرابہ بھی شروع ہوگیا اس بجٹ میں کئی اہم نکات پر سرکار نے توجہ دےتے ہوئے قحط سالی پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کی ہے جس کا اثر پورے بجٹ پر رہا ہے 260 آبپاشی پروجیکٹ بھی شروع کر نے کے ساتھ کسانوں کو امداد فراہمی اورر قرض معافی کا بھی تذکرہ کیا ہے اور کہاہے کہ یہ بجٹ دبے کچلے اور دلتوں کا بجٹ ہے سدھیر منگٹی وار نے اس بجٹ میں آبپاشی محکمہ کے لئے 12 ہزار 597 کروڑ مختص کیاہے اس کے ساتھ اس بجٹ میں آنجہانی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی , بال ٹھاکرے اور یشونت رآ چوہان کے مجسمہ تیار کر نے کو بھی منظوری دی گئی ہے۔ خطہ کوکن کی ترقی کے لئے کئی پروجیکٹ کو منظوری دی گئی ہے پسماندہ طبقات منڈل کےلئے 200 کروڑ مختص اس کے علاوہ پسماندہ طبقات کے طلبائ کےلئے 36 ہوسٹل کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔دریں اثناء مہاراشٹر اسمبلی میںبجٹ پیش ہونے سے قبل ہی اس کے افشائ ہونے کی خبروں پر اپوزیشن نے اسے ایوان کی توہین قراردیا ہے، اس لئے اس کے خلاف کانگریس مراعات شکنی نوٹس پیش کرے گی، کیونکہ یہ اسمبلی کے اصولوں کے منافی ہے۔آج ایک پریس کانفرنس میں کانگریس کے ایوان میں ڈپٹی ہآس لیڈر محمد عارف نسیم خان نے اس بات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ افشا ہوا ہے ٹوئیٹر ہینڈلر تھا اور اس نے وزیر مالیات کا آفیشل اکآنٹ سے ٹوئٹ کیا ہے۔انہوںنے الزام عائد کیا کہ ایوان بجٹ پیش کیے جانے سے پانچ منٹ قبل ہی اسکیمات کوپیش کیا جارہا تھا اور ٹوئٹر پر اشتہارات تیار کئے گئے تھے کہیں نہ کہیں یہ بجٹ پوری طرح سے لیک کیا گیا ہے۔انہوںنے اس میں بدعنوانی کا بھی الزام لگایا ہے ،اور اس طرح دونوں ایوانوں کے حقوق کو سلب کر نے کی کوشش کی گئی ہے،اس لیے اس پر مراعات شکنی نوٹس لانے کا بھی منصوبہ ہے۔عارف نسیم خان نے کہا کہ اس بجٹ کا کوئی فائدہ ریاست کے عوام کو نہیں ملے گا یہ صرف تشہیر ہے اگر سرکار کو کچھ کرنا ہوتا تو اس سے قبل ہی یہ اسکیمات کو متعارف کرواسکتی ہے قرض معافی کے نام پرصرف اعلانات کئے گئے ہیں۔