مکہ مدینہ میں مہاراشٹر حکومت عمارتیں خریدنے پر غور کریگی

ریاستی حج کمیٹی کے چیئرمن کو وزیراقلیتی بہبو د کی یقین دہانی

ممبئی 16/ مئی مقامات مقدسہ مکہ مدینہ میں مہاراشٹر حکومت عمارتیں خریدنے پر غور کریگی تاکہ ریاست کے حجاج کرام کو بہترین رہائش مفت یا کفایتی داموں پر دستیاب کرائی جائی، اس قسم کی یقین دہانی اقلیتی امور وزیز ونود تاؤڑے نے ریاستی حج کمیٹی کے چیئر من جمال صدیقی کو حج کمیٹی کی جانب سے پیش کیئے گئے چارٹرڈ آف ڈیمانڈ کے دوران دیا۔

گذشتہ کل ریاستی صدر دفتر منترالیہ میں ونود تاؤڑے نے اپنے محکمہ کے ذمہ داران کی میٹنگ طلب کی تھی اور اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی مختلف کمیٹیوں کے چیئر منوں کی کار کردگی پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔اس دوران جمال صدیقی نے ونود تاؤڑے کو بتایا کہ ماضی میں جونا گڑھ اور نظام حیدرآباد کی عمارتیں حرم شریف کے قریب واقع تھی جسے”روباط“ کہا جاتا تھا، آج بھی مکہ میں حیدرآباد کے نظام کی ایک عمارت موجود ہے جس سے تلنگانہ ریاست کے حجاج کرام فائدہ اٹھاتے ہیں نیز بیشتر عمارتیں حرم شریف کی توسیع کے دوران منہدم کردی گئیں ہیں۔
جمال صدیقی نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت سعودی حکومت سے مطالبہ کرے کہ منہدم شدہ عمارتوں کے عوض چند عمارتیں الاٹ کی جائیں تاکہ مہاراشٹر کے حجاج کرام کو سہولت ہوسکے۔

انہوں نے لندن میں واقع آئین ہند کے معمار ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی رہائش گاہ کو مہاراشٹر حکومت کی جانب سے خریدے جانے کا تذکرہ کیا اور کہا کہ جس طرح سے مہاراشٹر حکومت لندن میں بابا صاحب کی رہائش گاہ خرید سکتی ہے تو اسی طرزپر مکہ مدینہ میں حکومت عمارتیں خریدے جس کے عوض مہاراشٹر کے حجاج کرام کو سستا اور سہولت والا حج دستیاب ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حج کمیٹی کی جانب سے عمرہ خدمات بھی جلد شروع کی جانے والی ہے لہذا یہ عمارتیں حج سیزن کے علاوہ عمرہ کے لیئے گئے زائرین کے استعمال میں آئے گی۔
مہاراشٹر سے 14543 عازمین امسال اپنا مذہبی فریضہ ادا کرنے جارہے ہیں، جمال صدیقی نے وزیر اقلیتی بہبود سے مطالبہ کیاکہ مہاراشٹر کے 34 اضلا ع میں حج کمیٹی کے دفاتر کھولے جائیں اور خود ریاستی حج کمیٹی کا دفتر بھی خریدا جائے کیونکہ فی الوقت مہاراشٹر حج کمیٹی کرائے کی جگہ سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے۔ ونود تاؤڑے نے یقین دلایا کہ اس ضمن میں فوری طور پر مثبت کارروائی کی جائے گی۔

میٹنگ میں جمال صدیقی کے علاوہ حج کمیٹی ممبران ذوہیب بوٹ والا، رشید انصاری اور دیگر بھی موجود تھے۔
یو این آئی۔ این یو۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading