موربی : یکم /نومبر (ایجنسیز) گجرات کے موربی میں پل گرنے سے تقریباً 135 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس میں بچے سے لے کر بوڑھے تک شامل ہیں۔ حادثے کے وقت پل پر 500 کے قریب لوگ موجود تھے۔ ان میں سے کئی بچ گئے۔ اس حادثے کے دوران ایک نوجوان نے بڑی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 60 لوگوں کی جان بچائی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حادثہ کے وقت یہ نوجوان اسی پل پر موجود تھا۔ 30 اکتوبر کو شام 7 بجے کے قریب موربی قصبے میں ماچھو ندی پر بنایا گیا ایک تاریخی پل اچانک دریا میں گر گیا۔ اس پل کو حادثے سے صرف پانچ روز قبل شہریوں کے لیے کھول دیا گیا تھا۔ اتوار کا دن ہونے کی وجہ سے سینکڑوں شہریوں کا پل پر ہجوم تھا۔ اچانک پل ٹوٹ گیا اور سب دریا میں گر گئے۔ اس وقت پل پر موجود نعیم شیخ نامی بہادر نوجوان نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر 60 کے قریب لوگوں کی جانیں بچائیں۔
نعیم اپنے دوست کو نہ بچا سکا ۔نعیم خود بھی حادثے میں زخمی ہوگیا۔ لیکن، اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر 50-60 لوگوں کو موت کے جبڑے سے بچایا۔ حادثے میں زخمیوں کو فی الحال موربی کے سول اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ نعیم بھی اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہے۔ نعیم نے بتایا کہ حادثے کے وقت وہ اپنے 5 دوستوں کے ساتھ پل پر موجود تھا۔ اس واقعے میں اس کا ایک دوست بھی جاں بحق ہو گیا۔

نعیم شیخ نے کہا۔
پل اچانک ٹوٹ گیا اور سب پانی میں گر گئے۔ اس حادثے نے میرے دل کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ سب ڈر گئے۔ چیخیں اٹھی۔ حادثے کے وقت میں اپنے 5 دوستوں کے ساتھ پل پر موجود تھا۔ اس واقعے میں 4 دوست بچ گئے لیکن ایک دوست کی موت ہو گئی۔ میں تیرنا جانتا ہوں۔ میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر تقریباً 50-60 لوگوں کو دریا سے باہر نکالا۔ جب میں لوگوں کو محفوظ مقام پر لا رہا تھا تو مجھے چوٹ لگ گئی۔ اس کے باوجود ہم کوشش کرتے رہے۔