گوہاٹی، 16 مارچ. (پی ایس آئی) آسام میں تےج پور کے ایم پی رام پرساد سرماہ نے ہفتہ کو لوک سبھا انتخابات سے پہلے ‘پارٹی کے سینئر ارکان کے ساتھ برے برتاﺅ’ کا ذکر کرتے ہوئے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا. انہوں نے فیس بک پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے پرانے رہنماو¿ں کے ساتھ برے برتاﺅپر ناخوشی ظاہر کی. سرماہ نے لکھا،
” میں نے آج بی جے پی چھوڑ دی. لیکن سچ میں میرے دل میں ان بی جے پی کارکنوں کے لئے درد ہے، جنہیں پارٹی کے نئے در اندازوں نے نظر انداز کیا. میں نے ان کی طرف سے مضبوطی سے اپنی آواز اٹھائی، لیکن اب ان کے لئے آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ہو گا. ” پیشے سے وکیل، سرماہ طویل وقت بی جے پی سے جڑے ہوئے تھے. وہ آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد کے بھی رکن رہے تھے. سرماہ کا اگرچہ گزشتہ دو سالوں سے کئی تنازعات میں بھی نام آیا. آسام میں بی جے پی زیر قیادت حکومت کے ‘خراب مظاہرہ’ کی سرماہ نے تنقید کی، جس کے بعد ان کا نوکری کام گھوٹالے میں سامنے آیا، جس میںکروڑوں روپے لینے کے الزام ہیں. اس میں ان کی ایک بیٹی کو بھی ملوث پایا گیا. پارٹی ذرائع نے کہا کہ سرماہ کو اس بار ٹکٹ ملنے کا امکان نہیں تھا، کیونکہ بی جے پی ان کے علاقے سے ریاست کے وزیر خزانہ ہیمنت بسو سرما کو ٹکٹ دینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے.