منوہر لال کھٹر اور دشینت چوٹالہ نے صاف ستھری حکومت دینے کا کیا وعدہ

چنڈی گڑھ: ہریانہ کے وزیراعلیٰ منوہر لال کھٹر نے ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور جے جے پی اتحاد میں بنی نئی حکومت کے وزیراعلی کے طور پر آج حلف لیا وہ مسلسل دوسری مرتبہ ریاست کے وزیراعلیٰ بنے ہیں ان کے ساتھ جے جے پی کے سربراہ دشینت چوٹالا نے نائب وزیراعلیٰ کا حلف لیا۔

یہاں راج بھون میں منعقد ایک تقریب میں گورنر ستیہ دیو نارائن آریہ نے کھٹر اور چوٹالہ کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ ان دونوں کے علاوہ مخلوط حکومت کے کسی بھی دوسرے کابینہ یا وزیر مملکت نے حلف نہیں لیا۔ اب نئی حکومت کی کابینہ کو بعد میں حلف دلایا جائے گا۔

اس موقع پر بی جے پی کے قومی ایگزیکٹو چیئرمین جگت پرکاش نڈا، ہماچل پردیش کے وزیر اعلی جے رام ٹھاکر، شرومنی اکالی دل کے سرپرست اور پنجاب کے سابق وزیر اعلی پرکاش سنگھ بادل، بی جے پی کے قومی تنظیم کے وزیر بی ایل سنتوش، پارٹی کے ریاستی امور کے انچارج ڈاکٹر انیل جین، چنڈی گڑھ کے بی جے پی صدر سنجے ٹنڈن اور پارٹی کے دیگر سینئر لیڈر اور ہریانہ حکومت کے سینئر افسر موجود تھے۔

ریاست میں گزشتہ 21 اکتوبر کو اسمبلی انتخابات ہوئے تھے اور 24 اکتوبر کو ہوئی ووٹوں کی گنتی میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہ مل پانے کی وجہ سے بی جے پی نے جے جے پی کے دس اور سات آزاد ممبران اسمبلی کی حمایت سے ریاست میں حکومت بنائی ہے۔ بی جے پی کو اس الیکشن میں 40 سیٹیں ملی تھیں۔

حلف برداری کی تقریب میں گزشتہ بی جے پی حکومت میں وزیر رہے کیپٹن ابھیمنیو، رام ولاس شرما، كرشن لال پوار، منیش گروور، کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا، دہلی کی تہاڑ جیل سے ’فرلو‘ پر باہر آئے دشینت چوٹالہ کے والد اجے سنگھ چوٹالہ، ان کی والدہ اور رکن اسمبلی نینا چوٹالہ اور معززین بھی موجود تھے۔

کھٹر اور دشینت نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ وہ ریاست میں صاف ستھری حکومت دیں گے اور عوام سے جو وعدے کیے گئے ہیں ان کو پورا کریں گے۔ کھٹر نے کہا انہوں نے گزشتہ پانچ سال صاف ستھری حکومت دی ہے اور آگے بھی وہ جے جے پی اور آزاد ممبران اسمبلی کو ساتھ لے کر صاف ستھری حکومت دینے کی یقین دہانی کرتے ہیں۔ اس سے پہلے کھٹر اور چوٹالہ کو بالترتیب بی جے پی اور جے جے پی کے منتخب اراکین اسمبلی کی 26 اکتوبر کو یہاں ہوئی مختلف میٹنگوں میں اپنے اپنے دل کا متفقہ طور پر لیڈر منتخب کیا گیا تھا۔

سال 2014 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو 47 سیٹیں ملی تھیں اور اس نے ریاست میں سب سے پہلے اپنے دم پر حکومت بنائی تھی۔ کانگریس کو اس الیکشن میں 15 سیٹیں ملی تھیں اور بعد میں ہریانہ جن ہت کانگریس کا اس میں انضمام ہونے پر اسے دو اور رکن اسمبلی ملنے پر اسمبلی میں پارٹی کے ارکین کی تعداد 17 ہو گئی۔

انڈین نیشنل لوک دل (انیلو) 19 سیٹ لے کر ریاست میں اہم اپوزیشن پارٹی بنی تھی اور اس کے سینئر لیڈر ابھے چوٹالہ کو بطور حریف رہنما کا درجہ ملا۔ یہ پانچ سال کی مدت ختم ہوتے ہی انیلو دوحصوں میں تقسیم ہو گئی اور اس میں سے جے جے پی نئی پارٹی بنی۔ اس کے علاوہ انیلو کے کئی سینئر لیڈر بھی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی، کانگریس اور جے جے پی میں چلے گئے۔

سال 2019 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو 40 سیٹیں ملیں اور اسے چھ سیٹوں کا نقصان ہوا۔ کانگریس کو 31 سیٹیں ملی اور اس 16 سیٹوں کا فائدہ ہوا۔ جے جے پی کو دس سیٹیں ملیں اور سات آزاد امیدوار جیت گئے۔ انیلو اور ہریانہ لوكهت پارٹی کو ایک ایک نشست ملی ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading