آئیڈیل گروپ آف اسکولس و جونیر کالج کو محب اردو اعزاز سے نوازا گیا
خاندیش ادبی مرکز کی ماہانہ شعری نشست مرحوم داؤد مظہر کی یاد میں منعقد کی گئی
تھانے (آفتاب شیخ)
تھانے شہر میں اردو کے فروغ کے لئے انجمن خاندیش کے زیر انصرام خاندیش ادبی مرکز کی جانب سے ہر ماہ کے آخری سنیچر کو اردو ادبی نشست منعقد کی جاتی ہے جس میں سینئر شعرا کے ساتھ نئے اور خاص کر علاقہ کے شعرائے کرام کو کلام سنانے کا موقع پیش کر انکی حوصلہ افزئی کی جاتی اس ماہ کی نشست رابوڑی کے ہی معروف شاعر مرحوم داؤد مظہر کے نام سے منسوب کی گئی جس میں انکے اہل خانہ نے بھی شرکت کی اور مرحوم کے بیٹوں مشتاق شیخ اوراشفاق شیخ نے بھی کلام پیش کئے ساتھ ہی اس ماہ سے اردو ادبی خدمات انجام دینے والوں کو سراہاتے ہوئے علاقہ کے آئیڈیل گروپ آف اسکولس و جونئر کالج کو ان کی پچاس سالہ اردو خدمات کے عویض اعزاز سے نوازا گیا ۔ انجمن خاندیش کے جنرل سیکریٹری و خاندیش ادبی مرکز کے صدر آفتاب شیخ نے بتایا کہ ہماری گذشتہ میٹنگ میں طئے پایا کہ اب ہر نشست میں تھانے ضلع و اطراف میں اردو خدمات انجام دینے والے اساتذہ، ادارے، مدارس، اسکول، صحافی ، شعراء، ادباء، مصفنین و شخصیات کو اعزاز سے نوازا جائیگا تاکہ خطہ کی عوام کو معلوم ہوسکے کہ انکے درمیان کیسے کیسے جوہر رہتے ہیں جو ادب و زبان کی خاموشی سے خدمت کر رہے ہیں ۔ اس دوران مہمان خصوصی و آئیڈیل ایجوکیشن سوسائٹی کے جنرل سیکریٹری محمد اسماعیل نیریکر نے اظہار خیال کے دوران کہا کہ اردو کو پستی کی جانب لے جانے میں ہم سب کا ہاتھ آج ہم اردو کے فروغ کے لئے باتیں کرتے ہیں ، فکر کرتے ہیں نشستوں کا بھی انعقاد کرتے ہیں لیکن اردو کو پروان چڑھانے کے لئے جو ضروری لائحہ عمل اور مثبت اقدام اٹھانے چاہئے وہ کام ہم نہیں کر رہے ہیں انھوں نے بتایا کہ اردو کے اخبارات اپنے گھروں میں لگوائیں، کوئی ایسا ماہنامہ جریدہ، رسالہ جو اردو میں شائع ہوتا ہے اسے خریدیں یہ رسائل بہت مہنگے تو نہیں ہوتے ہیں لیکن ایک ہمارے اور ایک آپ کے خریدنے سے اسے نکالنے والوں کی ہمت افزائی ہوگی۔ اردو اسکولوں میں اپنے بچوں کو بھیجیں تاکہ انھیں زبان پر مہارت ہو اور انکی مادری زبان ہونے کے سبب انھیں مضامین سمجھنے میں آسانی ہوگی اسماعیل نیریکر نے بتایا کہ جس تیزی سے ہم اردو سے دور ہوتے جارہے ہیں کہیں ایسانہ ہو کہ آنے والے دور میں ہمارے پاس اردو میں نعت گوئی ، شاعر، قوال، اساتذہ، اخبار لکھنے والے لوگ تک نہ رہ جائیں۔ اس ادبی نشست میں معلم عبدالکریم خان نے انتہائی مودّبانا انداز میں نظامت فرمائی وہ ہر شاعر کو دعوت کلام پیش کرنے سے قبل انکے متعلق مختصراً تعارف بھی پیش کر رہے تھے ۔ جب کہ شعرائے کرام میں ممبرا سے معروف شاعرنظر نقشبندی، ہنگامہ اعظمی ، آمبرناتھ سے تنویر راویری، تھانے کے گلزار کرلوی، ڈاکٹر عبدالخلیق وفا سلطانپوری، ایڈوکیٹ رشید خان رشید، نئی ممبئی سے ابھیلاش چاولہ، ایڈوکیٹ منور انصاری، آمبرناتھ سے ایڈوکیٹ ریکھا روشنی، غنی گھائل، انیس قریشی تھانوی، اوماکانت ورما ،ایاز میر، لطیف شانی نے کلام پیش کیا اس دوران انجمن خاندیش کے صدر سید عباس اور دیگر عہدیداران و ممبران نے مہمانان کا استقبال کیا جب کہ فہیم خان نے رسم شکریہ ادا کی۔
