اُٹن (مہاراشٹرا) 2 نومبر ۔آر ایس ایس نے آج بیان دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس بیان سے جس میں کہا گیا تھا کہ رام مندر اُس کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے، ہندو قوم کی توہین ہوئی ہے اور حکومت پر زور دیا کہ تمام راستوں کی مسدودی کی صورت میں آرڈیننس پاس کرے۔ مہاراشٹرا میں سہ روزہ آر ایس ایس میٹنگ کے دوران تنظیم کے جنرل سکریٹری بھیاجی جوشی نے کہاکہ اُن کی تنظیم رام مندر کی تعمیر کے لئے ایجی ٹیشن چلانے سے گریز نہیں کرے گی۔ چونکہ معاملہ ابھی سپریم کورٹ میں زیردوران ہے اس لئے محض پابندی کی وجہ سے وہ خاموش ہے۔ اس کے علاوہ تنظیم حکومت پر دباو¿ نہیں ڈالنا چاہتی کیوں کہ اُن کی نظر میں قانون اور دستور کا اُن کو پاس و لحاظ ہے۔ امیت شاہ کی آج آر ایس ایس سربراہ سے بات چیت کے دوران کئی موضوعات زیربحث رہے جس میں رام مندر بھی ایک موضوع تھا۔ آر ایس ایس کی نیشنل ایگزیکٹیو میٹنگ جو بمبئی کے نواح میں منعقد کی گئی تھی، کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جوشی نے کہاکہ ہم سپریم کورٹ کا احترام کرتے ہیں اور زور دیتے ہیں کہ وہ ہندوو¿ں کے جذبات کا پاس و لحاظ رکھے۔ وہ اُمید کررہے تھے کہ 29 اکٹوبر کو سپریم کورٹ کی جانب سے دیوالی کے موقع پر اچھی سی خبر ملے گی۔ لیکن دوبارہ سماعت کی طویل تاریخ سے وہ مایوس ہوچکے ہیں۔ کیونکہ کورٹ نے جنوری کے پہلے ہفتہ میں سماعت مقرر کی ہے۔ اس سے قبل تین ججوں پر مشتمل بنچ جس کے صدر چیف جسٹس رنجن گوگوئی ہیں، کہا تھا کہ ”ہماری کئی ترجیحات ہیں، آئندہ سماعت چاہے تو جنوری، فبروری یا مارچ میں ہوسکتی ہے اور اس کا فیصلہ بنچ کرے گی“۔ مسٹر جوشی نے اس بیان پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ یہ بہت ہی دُکھ اور قابل تشویش بات ہے کہ ایک مذہبی معاملہ کو جس کا راست تعلق ہندوو¿ں کے عقیدہ اور جذبات سے ہے یہ کہہ کر ٹال دیا گیا کہ کورٹ کے ہاں دوسری ترجیحات بھی ہیں۔ انھوں نے کہاکہ اس طرح کے حساس مسئلہ کو ترجیح دینی چاہئے نہ کہ فیصلہ کو زیرالتواءرکھنا جس طرح ہم ہندو اپیکس کورٹ کا احترام کرتے ہیں اسی طرح سپریم کورٹ بھی ہمارا احترام کرے۔ علاوہ ازیں آر ایس ایس لیڈر نے کہاکہ مندر کی تعمیر کے لئے قانونی حیثیت بھی نہایت اہم ہے۔