گمشدہ کشمیری طالب علم احتشام بلال کی آئی ایس آئی ایس میں شمولیت کا پوسٹر-آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

نوئیڈا ۔٣۔نومبر۔اترپردیش کے گریٹر نوئیڈا علاقہ سے لاپتہ ہونے والے شاردا یونیورسٹی کے کشمیری طالب علم احتشام بلال صوفی نے مبینہ طور پر جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک آڈیو اور ایک تصویر کے مطابق احتشام بلال نے مبینہ طور پر اسلامک اسٹیٹ جموں وکشمیر نامی جنگجو تنظیم میں شمولیت اختیار کی ہے۔ تصویر میں احتشام کو سیاہ کپڑے اور فوجی جیکٹ پہنے دیکھا جاسکتا ہے۔ آڈیو میں احتشام کو اسلامک اسٹیٹ جموں وکشمیر میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔ احتشام سری نگر کے پائین شہر کے علاقہ خانیار کا رہنے والا ہے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ریاستی پولیس سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی آڈیو اور تصویر کی صداقت کی جانچ کررہی ہے۔ احتشام کے اہل خانہ اور رشتہ داروں نے جمعرات کو یہاں پریس کالونی میں اپنا احتجاج درج کرکے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک، قومی رادھانی نئی دہلی اور اترپردیش کی حکومتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ احتشام کو بازیاب کرنے میں ہماری مدد کریں۔

احتشام کے والد بلال احمد صوفی نے کہا تھا ’ہماری یہاں کی گورنر انتظامیہ اور دہلی و اترپردیش سرکاروں سے اپیل ہے کہ وہ ہمارے بچے کو بازیاب کرنے میں ہماری مدد کریں۔ ہم یہاں کی تمام جماعتوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہماری مدد کریں۔ ہم چار بھائی ہیں۔ یہ ہمارا اکلوتا بیٹا ہے‘۔ بتادیں کہ شاردا یونیورسٹی میں زیر تعلیم مقامی طالب علموں کے ایک ہجوم نے 4 اکتوبر کو دو کشمیری طالب علموں کا شدید زد وکوب کیا تھا جس کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کرنا پڑا تھا۔میڈیا رپورٹوں میں کشمیری طالب علموں کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ شاردا یونیورسٹی میں مقامی اور افغانی طلبہ کے درمیان پچھلے کچھ وقت سے جھگڑا چل رہا تھا تو اس دوران 4 اکتوبر کو مقامی طلباء جن کی تعداد قریب 200تھی نے افغانی طلباکے خلاف یونیورسٹی میں احتجاج کیا اور انہیں وہاں سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔اس دوران جب کشمیری طلباء یونیورسٹی سے باہر آئے تواحتجاجیوں نے اُن کو پکڑ کر اُن کا شدید زدوکوب کیااور اس زدکوب کی وجہ سے احتشام اور عبید نامی دو کشمیری طالب علم شدید زخمی ہو گئے تھے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading