ممبرا : متنازعہ قبرستان میں تدفین کاآغاز

بلدیہ میں تصفیے کیلئے مجھے بُلایاگیااس دوران سلاٹرہاوس پرقبرستان شروع کردیا۔ ردا رشید

تھانے:۱۳؍فروری(ظفر اللہ خان)گزشتہ دنوں کوسہ ایم ایم ویلی میں صوبائی محکمۂ اربن ڈیولپمنٹ کی جانب سے مختص سلاٹرہاوس اورگرلس ہاسٹل کی جگہ پرتھانے بلدیہ سے منظورشدہ مذکورہ متنازعہ قطعۂ اراضی پرزیرِتعمیر نئے قبرستان کاآغازہونے جارہاہے،لہٰذامذکورہ معاملے میں بلدیہ اورمقامی رکنِ اسمبلی کی مبینہ تاناشاہی کے خلاف مقامی سیاسی وسماجی افرادمخالفت کرنے پہنچے جنہیں رکنِ اسمبلی کے حامیوں کے ذریعے زدوکوب کئے جانے کی پولیس میں شکایت درج ہوگئی،اس کے باوجود۳؍میّتوں کی تدفین کے ساتھ متنازعہ قبرستان کاآغازہوگیا،

ممبرا ممبئی بھیونڈی کی خبریں واٹس ایپ پر حاصل کرنے کیلئے ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں کلک کریں

واضح رہے ممبراشہرمیں مسلمانوں کی بڑھتی آبادی کے لحاظ سے ۱۸؍سال قبل شہیدِراہِ مدینہ حضرت مثنّیٰ میاں جی کے مطالبے پر ممبرامیں سرکاری منصوبے کے تحت ۲۰۱۳ ؁ء میں ہی منظورشدہ قبرستان کی خبرکی خوب اشاعت ہوئی تھی،پھراربابِ سیاست پرالزام لگاکہ کچھ بلڈروں کے مفادات کے تحت منظورشدہ قبرستان کوکوسہ ایم ایم ویلی کے قریب، سرکاری منصوبے کے تحت منظور مذبحہ (سلاٹر ہاوس) اورگرلس ہوسٹل کی جگہ پرمنتقلی کے بعد بیشتر باشندگانِ ممبرا کوسہ نے جتندرآوہاڑکی تجویز اور کمشنرتھانے بلدیہ سنجیوجیسوال کے فرمان کے خلاف الم بغاوت بلندکرتے ہوئے ایک محاذکھول دیاہے ،

اسی دوران کوسہ جامع مسجدٹرسٹ کے زیرِ اثر شاہراہ سے متصّل کوسہ قبرستان پرایک بینرآویزاں کیاجاتاہے جس میں۱۰؍فروری سے قبرستان کومقفّل کرکے میّتوں کی تدفین کے سلسلے کوروک دیئے جانے کی بات عام ہوگئی ردّعمل کی صورت میں کچھ بارسوخ شہریوں نے اربابِ صوبائی اقتدار اور وزارتِ اوقاف سے رجوع ہوکرشکایت کی توٹرسٹیان کو مجبوراً بینر ہٹانا پڑا لیکن سیاسی چوکڑی بھرتے ہوئے ٹرسٹیان نے بلدیہ سے اجازت نامے حاصل کراس کاعکس دوبارہ بینرکی شکل میں آویزاں کردیئے جس کے تحت کوسہ شہرمیں قبرستان مقفّل کئے جانے اوربلدیہ کی منظوری کیساتھ نئے قبرستان کے آغازکی مسودہ رقم ہے،معاملے کی بابت خانوادۂ حضرت مثنّیٰ میاں سیّد علی اشرف (صوبائی جنرل سکریٹری این سی پی)نے بتایا’’ شہرمیں ایک اورقبرستان شروع ہواہے یہ اچھی بات ہے،رہی بات کوسہ قبرستان تویہ کسی ممبرا یاکوسہ والوں کاقبرستان نہیں ہے بلکہ قبرستان ہرمسلمان کاہوتاہے جسے دفن کیاجاتاہے‘‘حضرت مثنّیٰ میاں کے مطالبے کے تحت ممبرامیں نئے قبرستان کے عنوان پرموصوف یوں گویاہوئے’’اس معاملے میں یوڈی (محکمۂ اربن ڈیولپمنٹ)میں پٹیشن (عرضداشت) وغیرہ کی کوشش جاری ہے ،لیکن ابھی ایک قبرستان ملاہے پھرایک اورلیاجائے گاقبرستان،قطعۂ اراضی پرتنازعے سے قطعہ نظر،یہ بہت اچھی بات ہے کہ قبرستان کاآغاز ہواہے اورسب سے اچھی بات یہ ہے کہ وہیں عیسائی قبرستان اورہندوشمشان بھومی بھی ہوگی‘‘کلواممبرابی جے پی اقلیتی شعبے کی صدرردارشید نے بتایا ’’تصفیے کیلئے مجھے تھانے بلدیہ میں دوشنبہ کوبُلایاگیا اوردوشنبہ کوتھانے بلدیہ میں ملاقات کے وقت افسرغائب ہوگئے،اس دوران منظورشدہ سلاٹرہاوس پرقبرستان شروع کردیاگیاہے ،یہ اس بات کاثبوت ہے کہ متعصبانہ طورپرسلاٹرہاوس کی جگہ پرقبرستان شروع کرکے کئی بدعنوانیت کو ڈھانپا جارہاہے، لہٰذا ہماراایک وفد۱۳؍فروری کووزیرِاعلیٰ سے ملاقات کرکے بدعنوانیت کوطشت ازبام کرے گا‘‘ممبرامیں قبرستان کے سلسلے میں عدالت سے رجوع ہونے والے عارف لدّھاکے مطابق’’کوسہ میں نئے قبرستان توجانے دیجئے سلاٹرہاوس سے وابستہ تقریباً ۱۴؍ ہزارروزگارکے ذرائعوں کاخاتمہ ہوگیا،

بحرحال ممبراشہرکیلئے نئے قبرستان کامقدمہ جاری رہے گا‘‘باوثوق ذرائع کے مطابق سماجوادی پارٹی کے ضلعی صدروسیم سیّدکواطلاع ملی کہ مذکورہ بالاقبرستان میں تدفین کیلئے بیگاریوں کے استعمال کی خبرپاتے ہی کوسہ ایم ایم ویلی میں قبرستان پہنچے تووہاں موجودمبینہ طورپررکنِ اسمبلی کے کارندوں سے ان کی جھڑپ ہوگئی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading