امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کے لیے یہ رات تاریخی بنتی جا رہی ہے۔ پارٹی نے شمالی کیرولائنا میں سینیٹ کی پہلی نشست ریپبلکنز سے چھیننے کے بعد ایوانِ نمائندگان میں بھی اکثریت حاصل کر لی ہے، جبکہ کئی اہم ریاستوں میں اس کی پوزیشن مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔
جیسا کہ ہم ابھی رپورٹ کر چکے ہیں، بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس نے ٹیکساس کی سینیٹ نشست کے مقابلے کو اب ’ڈیموکریٹس کو معمولی برتری‘ قرار دیا ہے۔
اگرچہ جیمز تالاریکو کئی ماہ سے اس مقابلے میں معمولی مگر مستحکم برتری برقرار رکھے ہوئے ہیں، تاہم اب ان کی جیت کے امکانات بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
اگر ڈیموکریٹس ٹیکساس میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اسے امریکی انتخابی سیاست میں ایک بڑا دھچکا تصور کیا جائے گا، کیونکہ یہ امریکہ کی دوسری سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے جہاں ایک سے زیادہ نسلوں کے عرصے سے ڈیموکریٹس ریاست گیر سطح کے اقتدار سے باہر رہے ہیں۔
وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی مشکلات پر ٹرمپ کا ردعمل: ’میرا نام بیلٹ پر نہیں تھا‘

وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کو درپیش مشکلات کے درمیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار ردعمل دیتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے:
’میرا نام بیلٹ پیپر پر نہیں تھا، اور اگر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیت جاتے۔‘
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ابتدائی نتائج ریپبلکن پارٹی کے لیے توقعات کے مطابق نہیں دکھائی دے رہے۔