ممبئی :10/اگست( ایجنسیزز) مسلم کمیونٹی تنظیموں نے سابق وزیر اعلی اور شیوسینا ابھاٹا گروپ کے لیڈر ادھو ٹھاکرے کی ماتوشری رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا۔ مسلم تنظیم کے کارکنوں نے ادھو ٹھاکرے کے خلاف نعرے لگائے اور پوچھا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل پر ادھو ٹھاکرے کا کیا کردار ہے۔ تنظیموں نے الزام لگایا کہ بل پر بحث کے دوران ٹھاکرے کے 9 ارکان پارلیمان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔
حال ہی میں مودی حکومت نے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں وقف بورڈ ترمیمی بل پیش کیا۔ لیکن بل پر بحث کے دوران ادھو ٹھاکرے گروپ کے ممبران پارلیمنٹ کا کردار سامنے نہیں آیا۔ اس پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے باندرہ میں ادھو ٹھاکرے کی رہائش گاہ کے باہر مسلم تنظیم کے کارکن بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔ اس موقع پر نعرے لگائے گئے۔
اس تحریک کے کارکنوں کا کہنا تھا کہ جو مسلمان مساجد اور مدارس سے کام کرتے ہیں۔ آج وہ مساجد، مدارس غصب کیے جا رہے ہیں۔ اس نے ترقی پسند ہونے کی آڑ میں مسلمانوں سے ووٹ مانگے لیکن جب مسلم مخالف بل پیش کیا گیا تو یہ ایوان سے بھاگ گیا۔ یہ غدار ہیں۔ پارلیمنٹ میں کسی رکن اسمبلی نے آواز نہیں اٹھائی۔ 9 میں سے 9 ارکان ایوان سے واک آوٹ کرگے۔ 99 فیصد مسلمانوں نے مہاوکاس اگھاڑی کو ووٹ دیا۔ ہم نے جو ووٹ دیے وہ کہاں گئے، مشتعل کارکنوں نے سوال کیا۔
دریں اثناء مسلمانوں نے ادھو ٹھاکرے کو ہمارے بحران کے وقت کھڑے ہونے کے لیے ووٹ دیا لیکن وہ کھڑے نہیں ہوئے۔ سولاپور مسجد ہو، وقف بورڈ بل ہو، ان لوگوں نے آج ثابت کر دیا، صرف مسلمانوں سے ووٹ مانگے جاتے ہیں۔ وہ استعمال کیے جاتے ہیں۔ مسلم کارکنوں نے ادھو ٹھاکرے پر الزام لگایا کہ جب مسلمانوں کی ضرورت تھی تو وہ پارلیمنٹ میں پیچھے ہٹ گئے، لیکن ہم نے کثرت سے ووٹ دیا۔