تحقیقات بھیونڈی پولیس کو سونپی گئی
ممبئی/ بھیونڈی (شارف انصاری):- ممبئی کے انٹاپ ہل واقع جيكر باڑی میں رہنے والی نوجوان بیوٹیشن عورت کو محبت کے جال میں پھنسا کر اس کو شادی کا لالچ دے کر مختلف جگہوں اور لاج میں لے جاکر عصمت دری کر بیوٹیشن خاتون کو حاملہ کرنے کا معاملہ روشنی میں آیا ہے ۔خاتون کی شکایت پر انٹاپ ہل، ممبئی پولیس نے زیرو نمبر پر مقدمہ درج کر معاملے کی جانچ بھیونڈی پولیس ڈپٹی کمشنر کے ما تحت كونگاوں پولیس کو اس لیے سونپ دی گئی کی بیوٹیشین خاتون کے ساتھ پہلی عصمت دری کا واردات بھیونڈی کے كونگاوں پولیس اسٹیشن کے ماتحت انجام دی گئی تھی ۔
كونگاوں پولیس سے ملی معلومات کے مطابق انٹاپ ہل، ممبئی کے رہنے والے خورشید احمد خان 24 اپنے علاقے کے احاطے میں رہنے والی 28 سالہ بیوٹیشن عورت کے ساتھ 2015 میں محبت کر تعلقات قائم کیا تھا۔ جس کے بعد اس نے عورت کو شادی کی لالچ دکھا کر 4 سال تک بھیونڈی تعلقہ میں واقع رانجنولی ناکہ کے اتھیتی لاج، كھارگھر کے ہوٹل میں، کرلا واقع جی ایس ٹی کے ہوٹل میں اور جيكر واڑی، انٹاپ ہل میں واقع اپنے گھر بلا کر بار بار اس کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کیا ۔ اس دوران بیوٹیشین خاتون حاملہ ہوگئی۔ پھر اس نے اپنے عاشق خورشید سے شادی کرنے پر زور دیا جس کے بعد خورشید نے شادی کرنے میں ٹال مٹول شروع کردی ۔ اس پر متاثرہ خاتون نے پریشان ہوکر انٹاپ ہل، ممبئی کے پولیس اسٹیشن میں جا کر اپنے خلاف ہوئے تشدد و نہ انصافی کی شکایت درج کرائی ہے ۔ انٹاپ ہل پولیس نے زیرو نمبر پر مقدمہ درج کر اس کی تحقیقات بھیونڈی پولیس ڈپٹی کمشنر آفس کے ماتحت واقع كونگاوں پولیس کے حوالے کر دی ہے ۔ کیونکہ متاثرہ خاتون کے ساتھ پہلی عصمت دری کی واردات كونگاوں پولیس اسٹیشن کے تحت آنے والے اتھیتی لاج میں انجام دی گئی تھی ۔ اس معاملے کی جانچ پولیس انسپکٹر روپچند شیلے کر رہے ہے ۔