ممبئی ،3دسمبر(ایجنسیز)حال میں انٹرنیٹ پر ہندوستان میں کروڑوں افراد کی بولی اور استعمال میں آنے والی زبانوں کی فہرست شائع کی گئی ہے جوکہ ایک خوش آئند بات ہے ،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک گیر سطح پر اُردو زبان بحران کا شکار ہے، مہاراشٹر ملک کی واحد ریاست ہے،جہاں اُردو ذریعہ تعلیم رائج ہے اور کئی لاکھ بچے ہزاروں کی تعداد اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں،خود میونسپل کارپوریشن ممبئی عظمیٰ کے پرائمری ،اپرپرائمری اور ہائر سیکنڈری اسکولوں میں کئی لاکھ بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں اور ہندی کے بعداردوزبان میں ذریعہ تعلیم کے بچے اردوطلباء دوسرے نمبرپرہیں۔
مشہور ادارہ انجمن اسلام نے اُردو ذریعہ تعلیم کو زندہ رکھاہے،صدرڈاکٹر ظہیرقاضی اس کے لیے پیش پیش رہے ہیں۔انجمن خیرالاسلام نے بھی اردو میڈیم کو ترجیح دی ہے۔البتہ بہار،تلنگانہ، آندھراپردیش کو چھوڑ کر دہلی،اترپردیش اور بہار میں اس ہندوستانی زبان کا کوئی پُر سان حال نہیں ہے ۔مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکیڈمی بھی بحران کا شکار ہے،اورچھ سے سات آسامیاں خالی ہیں ،صرف سپرٹینڈنٹ شعیب ہاشمی ہی خدمت انجام دے رہے،جبکہ ریاستی وزیر برائے اقلیتی امور عبدالستار عبدالنبی نے جلدہی اقدام کرنے کا اعلان کیااور فنڈ بھی بڑھایا جائیگا۔
دریں اثناء ایک انگریزی اخبار کی ایک مفصّل رپورٹ کے مطابق آل انڈیا ریڈیو (اے آئی آر) یعنی آکاش وانی کی اردو خدمات گزشتہ اپریل سے بحران کا شکار ہے۔اطلاع کے مطابق آل انڈیا ریڈیو (اے آئی آر) اردو سروس، جو کبھی بیرونی خدمات کے ڈویژن میں سب سے زیادہ مصروف اور پسندیدہ نشریاتی سروس تھی وقت کے لحاظ سے، اس کے بہت سے پروگراموں کو روکے جانے اور ہندی پروگراموں کو جگہ دے کر فراموش کیے جانے کے نتیجے میں بحران کا شکار ہوگئی ہے۔کئی پروگرام کبھی کبھی ایک دن تاخیر سے نشر ہوتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں انہیں باسی کہہ سکتے ہیں،بتایا جاتاہے کہ مشہور اور مقبول ترین پروگرام جیسے کہ نئی نسل، نئی روشن (جوانی سے متعلق)، بزم خواتین (خواتین پر)، حفظ صحت، فلمی دنیا، سائنس نامہ، کھیل کھلاڑی لگ بھگ بند کر دیئے گئے ہیں اور ان سبھی کی جگہ مارکیٹ منتر نے لے لی ہے، جو ایک دن پہلے ہی ہندی میں نیوز سروسز ڈویژن کے ذریعے نشر ہو چکا ہوتاہے۔
جبکہ اردو سروس کے مقبول ترین پروگراموں میں شامل ہیلو ڈاکٹر اور گلہائے رنگ، جیسے لوک گیت کے پروگرام کی جگہ پرکرما نے لے لی ہے۔ دیگر پروگراموں جیسے آئینہ (ادبی)، مشاعرہ، انداز نظر (موجودہ امور) کی جگہ بھی غیر اردو پروگرام لے چکے ہیں۔ گزشتہ اپریل 2023 کے بعد سے عملے نےاردو سروس کا ایک بھی نیا پروگرام ریکارڈ نہیں کیا، ساڑھے نو گھنٹے کی سروس کو بغیر کسی پروگرام کے چھوڑ دیاگیا ہے، سوائے خبروں کے، جس زبان کے لیے یہ قائم کیا گیا تھا۔اردو شعبہ کے عملے کو جو چیز پریشان کر رہی ہے وہ ہندی پروگراموں کی تاخیر سے ٹرانسمیشن ہے جس کی وجہ سے وہ غیر متعلق ہیں۔
جبکہ مارکیٹ منتر، جو شیئر مارکیٹ اور کاروبار کی خبریں دیتا ہے شام کو نیوز سروسز ڈویژن کے ذریعے نشر کیا جاتا ہے ،لیکن اگلے دن صبح 10.30 بجے اردو سروس کے ذریعے اسے دہرایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اردو سروس ایک دن پہلے مارکیٹ بند ہونے کی خبریں دیتی ہے،حالانکہ ٹریڈنگ کا نیا دن شروع ہو جاتا ہے۔پرکرما، جو سامعین کو تقریبات اور تہواروں کی اہمیت سے آگاہ کرتا ہے، ایک اور پروگرام ہے جو ایک دن کی تاخیر سے نشر ہوتا ہے۔
ایسی مثالیں موجود ہیں جب تہواروں کے منائے جانے کے ایک دن بعد خبریں اور اس کی اہمیت کو منتقل کرنا پڑا ہے۔ مثال کے طور پر، قومی اتحاد کا دن 31 اکتوبر کو منایا جاتا ہے اور اسی دن پرکرما میں اس کی اہمیت کو بیان کیا گیا تھا۔ تاہم یکم نومبر کو اردو سروس کے ذریعے پرکرما پروگرام کو دہرایا گیا، کاروا چوتھ جیسے واقعات کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا جہاں پروگرام نے خواتین کو اس کی اہمیت بتائی۔ تاہم، فیسٹیول ختم ہونے کے ایک دن بعد اردو سروس کے ذریعے اسے دہرایا گیا،‘‘ ریڈیوسے منسلک ایک اہلکار نے اس بات پر افسوس کااظہارکیاہے کہ ۔یہ تبدیلی وزارت کی جانب سے کسی سرکاری اطلاع یا حکم کے بغیر کی گئی ہے۔
ایک زمانے میں اردو سروس سب سے زیادہ مقبول تھی اور 24 گھنٹے کی سروس تھی، لیکن کووڈ کے بعد نصف سے زیادہ کم کر دی گئی۔ اب اس کی ترسیل صبح میں تین گھنٹے 45 منٹ (9.30 بجے سے 1.15 بجے تک)، دو گھنٹے دوپہر میں (3 بجے سے 5 بجے تک) اور شام (9.15 سے 1 بجے) میں تین گھنٹے 45 منٹ تک ہوتی ہے۔اڈ مالی سال (2023-2024) آل انڈیا ریڈیو اردو سروس کا بجٹ تقریباً 6 کروڑ روپے تھا لیکن گزشتہ سال ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ سال مارچ کے بعد بجٹ میں کمی کر دی جائے گی، کیونکہ حکام کو پتہ چلا ہے کہ پروگراموں پر کوئی رقم خرچ نہیں کی گئی۔ انگریزی اخبار پیٹریاٹ نے ڈی جی اے آئی آر وسودھا گپتا سے رابطہ کیا، جنہوں نے یہ کہتے ہوئے جواب دیا، "کووڈ میں قلیل کیے گئے پروگرامز اور سروسیز کی ادارہ بحالی کے موڈ میں ہے۔