ملک کے موجودہ حالات میں بہتری لانے کے لئے تھانے میں اجتماعی ر وزہ و اجتماعی دعا کا اہتمام

ملک کے موجودہ حالات میں بہتری لانے کے لئے تھانے میں اجتماعی روزہ و اجتماعی دعا کا اہتمام
تھانے (آفتاب شیخ)
ملک کے موجودہ حالات روزبروز بگڑتے ہی جارہے ہیں اور مرکزی حکومت اس پر قابو پانے کی بجائے ایسے فیصلے کررہی ہے کہ حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ ملک کا امن و امان گارت ہوچکاہے۔ اصحاب نظر سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ حکومت ہند ایک مخصوص نظریہ کے تحت شہریت ترمیمی قانون(سی اے اے ) کے ذریعہ مذہبی بنیادوں پر ہندوستانی عوام کو تقسیم کررہی ہے۔ شہریت ترمیمی بل کی آڑ میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ سی اے اے جو شہریت دینے کے لیے ہے،اس سے مسلمانوں کو علاحدہ رکھا گیا ہے،جب کہ قومی رجسٹر برائے شہریت(این آر سی )کا نفاذ اگر عمل میں آتا ہے توکروڑوں غریبوں،دلتوں اور مسلمانوں کی شہریت چھن جائے گی۔حکومت ہند پہلے مرحلہ میں قومی آبادی رجسٹر(این پی آر)کے ذریعہ این آر سی نافذ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔یہ واضح ہے کہ این پی آر میں ایسے سوالات شامل کردیئے گئے ہیں،جن کا تعلق این آر سی سے ہے۔ ملک بھر میں اس کی مخالفت کی جارہی ہے۔ مختلف پروگرام کئے جارہے ہیں، سی اے اے قانون کے خلاف اس کو رد کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں مقدمہ بھی کیا گیا ہے۔ ملک بھر میں اس کے خلاف آواز بلند ہورہی ہے سیکولر غیر مسلم بھی مسلمانوں کا ساتھ دیتے ہوئے مسلسل احتجاج کررہے ہے لیکن تاناشاہی حکومت کے کان پر جو تک نہیں رینگ رہی ہے۔ ایسے نازک وقت میں تھانے میں بھی ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے تھانے میں مقیم تمام مکتبہ فکر کے لوگوں نے مل کر آپسی و مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے کل جماعت تھانے کی بنیاد رکھی ہیں۔ کل جماعت تھانے کی جانب سے ملک کے موجودہ حالات میں بہتری آنے اور ملک بھر میں این آر سی کے خلاف جلوس جلسے، احتجاج کیے جارہے ہیں ان کوششوں میں کامیابی حاصل ہونے کے لیے تھانے کی عوام سے اجتماعی روزہ رکھنے کی اپیل کی تھی اور بعد نماز عصر رابوڑی میں واقع انجمن خاندیش کمیونٹی ہال میں اجتماعی دعا کا اور اس کے بعد روزہ افطار کا اہتمام کیا تھا۔ جس میں سینکڑوں فرزندانِ توحید نے مسلکی اختلافات کو بھولتے ہوے اجتماعی دعا اور افطار میں شرکت فرماکر کر ملی اتحاد کا ثبوت دیا۔ مومن پورہ جمعہ کے خطیب و امام مفتی عظیم الدین نوری نے ملک کے موجودہ حالات میں بہتری آنے، ملک میں امن و امان قائم رہنے اور ظالموں کے ظلم کے خلاف افطار سے قبل رقت انگیز دعاء فرمائی۔ نماز مغرب کے بعد بھی دوبارہ دعاء کی گئی اس کے بعد کل جماعت تھانے کے کنوینر مسعود ترکی نے عوام‌کے سامنے کل جماعت تھانے کے اغراض و مقاصد اور اب تک کی گئی کاروائی اور ماضی میں درپیش ہوئی چند غلط فہمیوں کی مختصراً تفصیل پیش کی اور تھانے میں بھی جلد ہی منعقد ہونے والے احتجاج کے متعلق عوام کو آغا کیا ساتھ چند لوگ جو غلط فہمیاں پیدا کررہے ہیں اور تنقیدی ذہن رکھتے ہیں ان سے بھی اپیل کی کہ اگر آپ اچھا کام نہیں کرسکتے ہیں تو خدارا جو کوشش کر رہا ہے اسے کام کرنے دیں یہ ملی مسلہء ہے براہ کرم اس میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اختتام میں کل جماعت تھانے کور کمیٹی کے رکن و انجمن خاندیش کے صدر سید عباس علی نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اپیل کی کہ عوام بھی اس تحریک میں کل جماعت تھانے کا بھر پور تعاون کریں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading