ملک کے مزید 6 ائیر پورٹ اڈانی گروپ کی جھولی میں ڈالنے کی تیاری!

ملک کے 6 مزید ائیر پورٹ پرائیویٹ ہاتھوں میں دئیے جانے والے ہیں۔ خصوصی ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق ان سبھی 6 ائیر پورٹ کو اڈانی گروپ کے ہاتھوں میں دینے کا خاکہ تیار ہے اور جلد ہی اس کا باضابطہ اعلان بھی کر دیا جائے گا۔ جن 6 ائیر پورٹ کی نجکاری یعنی پرائیویٹائزیشن ہونا ہے ان میں بھونیشور، وارانسی، اندور، تریچی، امرتسر اور رائے پور کے ہوائی اڈے شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزارت مالیات نے مشورہ دیا تھا کہ کسی بھی ایک کمپنی یا کارپوریٹ گھرانے کو دو سے زیادہ ہوائی اڈے نہ سونپے جائیں، لیکن مودی حکومت نے ان مشوروں کو درکنار کر دیا ہے۔ ذرائع نے ’نیشنل ہیرالڈ‘ کو بتایا کہ مودی حکومت نے دو ہوائی اڈوں والی شرط کو ہٹانے کی تیاری کر لی ہے، جس سے اڈانی گروپ کو سبھی 6 ہوائی اڈے ملنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اس بارے میں ایک ڈرافٹ نوٹ متعلقہ وزارتوں کو بھیجا جا چکا ہے اور دسمبر کے پہلے ہفتہ تک کابینہ کی اس پر منظوری ملنے کا امکان ہے۔ اس کے ساتھ ہی جنوری 2020 تک ہوائی اڈوں کی نجکاری کا عمل پورا کر لیا جائے گا۔

بتایا جاتا ہے کہ وزارت برائے شہری ہوابازی کے تحت آنے والے ائیر پورٹ اتھارٹی آف انڈیا نے بھی اس تجویز کو ہری جھنڈی دے دی ہے۔ اے اے آئی ہی ہوائی اڈوں کی تعمیر، تجدید، رکھ رکھاؤ اور مینجمنٹ کے لیے ذمہ دار ہے۔

اگر مذکورہ 6 ہوائی اڈے اڈانی گروپ کو دئیے جاتے ہیں تو اڈانی گروپ ملک میں ہوائی اڈوں کا مینجمنٹ کرنے والی سب سے بڑی کمپنی بن جائے گی۔ غور طلب ہے کہ اسی سال فروری میں اڈانی گروپ کو 6 ہوائی اڈے سونپے گئے تھے جن میں احمد آباد، لکھنؤ، جے پور، گواہاٹی، تیرووننت پورم اور مینگلور شامل ہیں۔

حکومت کے ساتھ ہی نیتی آیوگ کی رائے ہے کہ ہوائی اڈوں کا مینجمنٹ نجی ہاتھوں میں سونپنا بہتر متبادل ہے کیونکہ وہ اس کام کو بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں، ساتھ ہی وہ ہوائی اڈہ اتھارٹی کے لیے خزانہ بھی جمع کر سکتے ہیں۔ لیکن مختلف یونینوں کے اراکین کا ماننا ہے کہ ہوائی اڈوں کی نجکاری پر حکومت کی دلیل حقیقت سے پرے ہے۔

آئیٹک (آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس) کے لیڈر امرجیت کور کا کہنا ہے کہ مودی حکومت سرکاری اداروں کو فروخت کرنے کے مشن پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’مودی حکومت سڑک سے لے کر ہوائی اڈے تک سب کچھ فروخت کر رہی ہے، ان میں بھارت پٹرولیم اور ریلوے جیسی منافع کمانے والی سرکاری کمپنیاں تک شامل ہیں۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’سبھی یونینوں نے ہوائی اڈوں کی نجکاری کی مخالفت کی ہے۔ ان میں آر ایس ایس سے منسلک بھارتیہ مزدور سَنگھ بھی شامل ہے، لیکن مودی حکومت کو ان مخالفتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔‘‘ کور کا الزام ہے کہ ’’ایسا لگتا ہے کہ مودی حکومت کی ترجیح کارپوریٹ دوستوں کو فائدہ پہنچانا ہے نہ کہ عام آدمی کا دھیان رکھنا۔‘‘

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading