ملک کے خلاف سازشی کیس میں برسوں سے گرفتار منظر امام و دیگرنوجوانوں کا مقدمہ شروع

پٹیالہ ہاؤس دہلی کی خصوصی این آئی اے عدالت میں فرد جرم کی سماعت جاری

ممبئی ۔ ۲۰؍ مارچ (ورق تازہ نیوز) ملک کے خلاف سازش ،بغاوت ،دہشت گردانہ کاروائی انجام دینے کے الزام میں گذشتہ کئی سالوں سے گرفتار منظر امام و دیگر نو جوانوں کا مقدمہ جو کی ایک طویل عرصہ سے التواء کا شکار تھا جمعیۃ لیگل ٹیم کی بڑی جد و جہد کے بعد پٹیالہ ہاؤس دہلی کی خصوصی این آئی اے عدالت میں فرد جرم کی سماعت شروع ہو چکی ہے دفاعی وکلاء عدالت میں مو جود رہ کر بحث میں حصہ لے رہے ہیں ۔ اس بات کی اطلاع آج یہاں نا جائز مقدمات میں ما خو ذبے گناہ نو جوانوں کو انصاف دلا نے کے لئے مفت قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے ۔

انہوں نے مزید تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ سازش کے اعتبار سے یہ ہندوستان کا سب سے بڑا مقدمہ ہے جس میں اتنی بڑی تعداد میں مسلم نو جوانوں کو پھنسایا گیا ہے جو پہلے سے ہی دوسرے کیسس میں ما خوذ ہیں اور جیلوں کے اندرقید و بند کی صعو بتیں جھیل رہے ہیں ،یہ مقدمہ R C 06/2012 حکومت ہند کے خصوصی حکم کے بعد دائر کیا گیا ہے ،جو در اصل این آئی اے اور دہلی پولس اسپیشل سیل کے مابین چلی آرہی رسہ کشی کا نتیجہ ہے ۔این آئی اے نے در جنوں نو جوانوں پر 06/12 کے تحت کاروائی کرتے ہوئے ہندوستان بھر کے الگ الگ مقامات سے تعلیم یافتہ مسلم نو جوانوں کو نشانہ بنایا ہے جو پہلے سے ہی مختلف الزامات میں جیلوں میں بند تھے ،اور ان پر مختلف دفعات کے تحت ملک کے خلاف جنگ و دیگر سنگین الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
جمعیۃ لیگل سیل کے سکریٹری ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان نے کہا کہ یہ مقدمہ گذشتہ ۶ ؍ سالوں سے التواء کا شکار رہا ،اس مقدمہ کی بنیاد ہی غلط ہے ،کیونکہ ان ملزمین میں سے کئی ایک بے قصور نوجوان ایسے ہیں جو پہلے سے ہی جیل میں بند تھے انہیں پھر سے جیل میں گرفتاری دکھا کر ملزم بنایا گیا جو کہ نہ صرف غیر قانونی بلکہ سراسر نا انصافی اور زیادتی پر مبنی ہے ،دفاع نے عدالت میں بحث کے دوران اپنا مضبوط موقف رکھا کہ ایک ہی جرم کے تحت کئی دفعہ نہ تو مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی سزائیں دی جا سکتی ہیں ،اس کیس میں منصوبہ بند سازش کے تحت مسلم نو جوانوں کو طویل عرصہ تک جیلوں میں رکھنے کے لئے اس طرح کی کوشش کی گئی ہے عدالت میں اس کیس کی پیر ایڈوکیٹ ابو بکر سباق سبحانی و دیگر کر رہے ہیں ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading