ناندیڑ: (ورق تازہ نیوز)شہر کے سانگوی علاقے کے گوپال نگر میں رہائش پذیر ضلع پریشد کے ایک استاد نے جمعہ 17 جولائی کی صبح تقریباً 7:30 بجے گوداوری ندی پر واقع پل سے اپنی چار پہیہ گاڑی ندی میں گرا کر اپنے دو کمسن بچوں سمیت خودکشی کر لی۔ اس افسوسناک واقعے سے پورے شہر میں سنسنی پھیل گئی۔ اطلاع ملتے ہی مدکھیڑ اور ناندیڑ دیہی پولیس موقع پر پہنچی اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیم کی مدد سے تینوں لاشوں کو پانی سے باہر نکالا گیا۔
متوفی کی شناخت سنیل مورے کے طور پر ہوئی ہے، جو اصل میں تعلقہ بھوکر کے بیمبار گاؤں کے رہنے والے تھے۔ وہ حمایت نگر تعلقہ کے پوٹا (بو) ضلع پریشد اسکول میں بطور استاد خدمات انجام دے رہے تھے، جبکہ ان کی اہلیہ بھی ضلع پریشد اسکول میں معلمہ ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے وہ سانگوی ہوائی اڈے کے قریب گوپال نگر میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ مقیم تھے۔
پولیس کے مطابق جمعہ کی صبح سنیل مورے نے اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس پر تحریر کیا کہ وہ اعلیٰ افسران کی مبینہ ہراسانی اور ذہنی اذیت سے تنگ آکر اپنے دو بچوں کے ساتھ خودکشی کر رہے ہیں۔ اس کے بعد وہ اپنے بیٹے سمیت اور بیٹی سارا کو گاڑی میں بٹھا کر امدورا کے قریب گوداوری ندی کے پل پر پہنچے اور گاڑی سمیت ندی میں چھلانگ لگا دی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ریونیو انتظامیہ، ایس ڈی آر ایف، متوفی کے ساتھی اساتذہ، اہل خانہ اور بڑی تعداد میں شہری موقع پر جمع ہو گئے۔ ہجوم بڑھنے کے باعث پولیس نے حفاظتی انتظامات سخت کرتے ہوئے لوگوں کو محفوظ فاصلے پر رکھا، جبکہ اس دوران اس سڑک پر ٹریفک بھی کافی دیر تک متاثر رہی۔
ایس ڈی آر ایف کی ٹیم نے طویل تلاش کے بعد سنیل مورے، ان کے بیٹے سمیت اور بیٹی سارا کی لاشیں ندی سے برآمد کر لیں۔ سینئر پولیس افسران بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں اور معاملے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں۔
اس المناک سانحے کے بعد تعلیمی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پولیس نے واٹس ایپ اسٹیٹس اور دیگر شواہد کی بنیاد پر تفتیش شروع کر دی ہے تاکہ خودکشی کی اصل وجوہات سامنے آ سکیں۔