نئی دہلی: 10 جنوری 2019.
ڈاکٹر ذاکر نائک جو گزشتہ کئی سالوں سے ملائیشیا میں پناہ لئے ہوئے ہیں ان کا معاملہ ایک بار پھر شہ سرخیوں میں آیا ہے کیونکہ ملائیشیا کے ایک ممبر آف پارلیمنٹ انور ابراہیم نے اپنے بھارت دورے پر اس سلسلے میں صاف صاف بات کہی ہے.
انور ابراہیم نے کہا کہ ذاکر نائیک کی سپردگی کے لئے ہمیں ٹھوس ثبوتوں کی ضرورت ہے صرف درخواست پر کارروائی نہیں کی جا سکتی ہے. انہوں نے کہا کہ ذاکر نائک کے خلاف ‘ٹھوس ثبوت’ ملنے کے بعد ملائیشیا حکومت کارروائی کرے گی. انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب تک بھارت سے کوئی رسمی ثبوت فراہم نہیں گئے گئے ہیں، انور ابراہیم بھارت کے دورے پر ہیں اور انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے باہمی دلچسپی کے دو طرفہ، علاقائی اور عالمی معاملات پر تبادلہ خیال کیا.
Anwar Ibrahim, Malaysian MP on Zakir Naik: We’re waiting for more arguments for Malaysian govt to look at. What we have now is a request to bring him back, documents & reasons should be made available. I made it clear to PM Modi that issues of terror will not be supported by us. pic.twitter.com/EYbWb0nU9U
— ANI (@ANI) January 10, 2019
انہوں نے کہا، ‘ابھی ہمارے پاس ان کو واپس لانے کی صرف درخواست ہے، مزید کاغذات اور دستاویزات فراہم کئے جانے چاہئے. میں نے پی ایم مودی کو واضح کیا ہے کہ دہشت گردانہ امور کو ہماری طرف سے حمایت نہیں کی جائے گی. ‘