معروف صحافی اور اسلامی اسکالر قاری محمد میاں مظہری کا انتقال، تدفین بعد نمازِ جمعہ

گزشتہ کچھ عرصہ سے عارضہ قلب میں مبتلا معروف صحفای اور اسلامی اسکالر قاری محمد میاں مظہری کا جمعرات کے روز انتقال ہو گیا۔ 67 سالہ قاری محمد مظہری کا انتقال حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے شام تقریباً چار بجے ہوا۔ قومی اقلیتی مالیاتی و ترقیاتی کارپوریشن حکومت ہند کے سابق چیئرمین رہ چکے قاری میاں مظہری کے پسماندگان میں تین صاحبزادیاں اور ایک فرزند ہے۔

موصولہ خبروں کے مطابق قاری محمد میاں مظہری کی تدفین بعد نماز جمعہ دہلی گیٹ قبرستان میں ہوگی۔ ان کے انتقال پر اردو کے معروف ادیب فاروق ارگلی، جلال الدین اسلم، مولانا رحمت اللہ فاروقی، اشہر ہاشمی، ڈاکٹر عبدالواسیع، ڈاکٹر بسمل عارفی، ڈاکٹر وسیم اختر، ظفر انور، محمد وسیم، شکیل رحمانی وغیرہ نے تعزیت کا اظہار کیا اور اظہارِ غم کا یہ سلسلہ لگاتار جاری ہے۔

واضح رہے کہ قاری محمد میاں مظہری ہفت روزہ ’سیکولر قیادت‘ اور ماہنامہ ’قاری‘ کے سابق مدیر تھے اور ان کی صحافیانہ صلاحیت کا لوہا ہر شخص مانتا تھا۔ لکھنے پڑھنے کا انھیں بہت شوق تھا اور ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے جب انھوں نے اپنے پیر طریقت حضرت مولانا مفتی میاں ثمر دہلوی کی حیات و خدمات پر ایک کتاب مرتب کی تھی۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading