مسلم ریزرویشن کی بحالی کیلئے 23؍نومبر کوجمعیۃ علماء مہاراشٹرکا ریاست گیردھرناآندولن

دھرنے میں عوام سے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے مولانا ندیم صدیقی کی اپیل

ممبئی: ۲۲؍ نومبر ( پریس ریلیز ) مسلمانوں کی سماجی ،اقتصادی ،اور تعلیمی پسماندگی کی بناء پر مسلم ریزرویشن کی بحالی کے لئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی ہدایت پر آج ۲۳؍ نومبر بعد نماز جمعہ ر یاست گیر پیمانے پر دھرنا آندولن کیا جائے گا اور کلکٹر ،ڈپٹی کلکٹر ،تحصیلدار کو میمورنڈم پیش کیا جائے گا ،اس سلسلہ کی تمام تر تیار یاں مکمل کر لی گئیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار آج یہاں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حافظ ندیم صدیقی نے صوبے بھر میں کئے جارہے دھرنے آندولن کے تعلق سے میڈیا کے لئے جاری اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔ جمعیۃ دفتر سے اخبارات کے لئے جاری اپنے بیان میں مولانا ندیم صدیقی نے کہا کہ جمعیۃ علماء مہا راشٹر غیر سیاسی طور پر تمام ملی سماجی تنظیموں کو ساتھ لیکر گذشتہ کئی سالوں سے مسلم ریزرویشن کے لئے تحریک چلا رہی ہے جس طرح مراٹھا سماج کے لوگ کر تحریک چلارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ منصوبہ بند طر یقہ پرزندگی کے تمام شعبوں میں مسلمانوں کی نما ئندگی گھٹائی گئی جس شعبہ میں بھی وہ نمایاں تھے وہاں ان کو پست ہونے پر مجبور کر دیا گیا ،ہزاروں مسلم کش فسادات کے ذریعہ ان کی جان ، مال ،عزت کے ساتھ کھلواڑ اور صنعتی و اقتصادی مراکز کو تباہ کرکے سماجی طور پر انکو بے حیثیت اور اقتصادی طور پر برباد کر دیا گیا ۔جس کی وجہ سے آج مسلمان ہر شعبہ زندگی میں نہ صرف پچھڑے ہیں بلکہ دلتوں سے گئے گذرے ہیں ان کو آگے بڑھانے کے لئے ریزرویشن بحال کرنا انتہائی نا گزیرہے۔اسی لئے آج ہم پوری ریاست میں دھرنا آندولن کر رہے ہیں جس میں حکومت سے یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ مسلمانوں کو ملا ہوا پانچ فیصد ریزرویشن فوری طور پر بحال کیا جائے، انکی آبادی کے تناسب سے ہر شعبہ میں نمائندگی دی جائے ،اور اس کی راہ میں جو بھی بظاہر آئینی اور دوسری رکا وٹیں ہیں ان کو دور کر نے کے لئے مو ثر اقدا مات کئے جائیںاور پسماندگی کی بنیاد انہیں ریزر ویشن فراہم کیا جائے ۔انہوںنے مزید کہا ابھی حال ہی میں پسماندہ طبقاتی کمیشن نے مراٹھا سماج کو تعلیمی ،سماجی ،اور معاشی اعتبار سے پسماندہ قرار دیتے ہوئے ریزرویشن دینے کی سفارش کی ہے ،نیز خصوصی اور غیر معمولی صورت حال سے نمٹنے کے لئے ریزرویشن کے لئے قا نون بنا نے کی وکالت کی ہے ،اور حکومت انہیں ریزرویشن دینے کی تیاری میں بھی ہے۔ریزر ویشن کے حصول کے لئے پسماندگی کی یہی و جہیںمسلمانوں کے پسماندہ طبقات کے اند ر بھی پائی جارہی ہیں اور ایک نہیں تین تین کمیٹیوں نے ریزرویشن کی سفارش کیں ہیں عدالت نے بھی تعلیمی میدان میں انکی پسماندگی کو تسلیم کرتے ہوئے ریزرویشن کی منظوری دی ہے اس کے با جود وزیر اعلی کی جا نب سے مسلم ریزریشن کے بارے میں قانونی پیچیدگیوں کا حوالہ دیکر ٹال مٹول کرنا محض عناد اور مسلم دشمنی پر مبنی ہے، اور یہ مسلمانوں کے ساتھ کھلی ہوئی نا انصافی ہے ،اس سلسلے میں کئی دفعہ مختلف اوقات میں جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے نمائندہ وفد نے وزیر اعلی دیویندر فڑ نویس سے ملاقات کرکے صورت حال سامنے رکھا ،ریزرویشن کی بحالی اور اسکی اشد ضرورت کی جا نب وزیر اعلی کی توجہ مبذول کرائی اس موقع پر وزیر اعلی نے پیش قدمی کرنے کاتیقن دیا تھا لیکن ابھی تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا ۔ اسی لئے آج ایک بار پھر ہم نے مسلمانوں کی پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن بحال کرنے کے مطالبہ کو لیکر دھرنا آندولن کرنے کا فیصلہ کیا ہے، مہا راشٹر کے تمام اضلاع ،شہروں اور تعلقوں سے رپورٹ لی گئی ہے تمام مقامات پر احتجاج کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں ،چنانچہ آج بعد نماز جمعہ ۲؍ تا ۵؍ بجے شام جمعیۃ کے عہدیدارن و کارکنان اور عوام کلکٹر ،ڈپٹی کلکٹر وتحصیلدار کے دفاتر کے سامنے دھرنا دیں گے اورپھر وزیر اعلی کے نا م مذکورہ بالا آفیسران کو میمورنڈم پیش کریں گے صدر جمعیۃ علماء مہا راشٹر مولانا ندیم صدیقی نے عوام سے اپیل کی ہے کی آئین و دستور کی پاسداری کرتے ہوئے پر امن طریقے پر زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت فر ماکر دھرنے کو کامیاب بنائیں ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading