مسلمانوں کے خلاف بیان دینے والے آسٹریلیائی سینیٹر کے سر پر نو جوان نے انڈا پھوڑا» ویڈیو دیکھے

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مسجدوں میں ہوئے حملے میں 50 نمازی شہید ہوگئے ہیں،اسی تعلق سے متنازعہ بیان دینے والے آسٹریلیائی سینیٹر پر ایک نوجوان نے انڈے سے حملہ کر دیا۔ آسٹریلیا کے سینیٹر فریسر ایننگ میلبورن میں صحافیوں سے بات کر رہے تھے تبھی یہ واقعہ پیش آیا۔

یہ پورا واقعہ صحافیوں کے کیمرے میں ریکارڈ ہو گیا ہے۔ اس واقعہ کا ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گیا ہے۔ اس ویڈیو میں ایننگ صحافیوں سے بات کرتے دکھ رہے ہیں۔ تبھی ایک شخص پیچھے سے آتا ہے اور سینیٹر کے سر پر انڈا پٹک دیتا ہے۔ سینیٹر فریسر ایننگ پیچھے مڑتے ہیں اور اس شخص کو گھوسا مارنے لگے۔ تبھی وہاں موجود کچھ لوگوں نے انہیں پکڑا اسکے بعد انہوں نے اس شخص کو چھوڑا۔

بتا دیں که آسٹریلیائی کے کوینسلینٹ سے سینیٹر فریسر ایننگ نے کہا تھا که نیوزی لینڈ میں غیر ملکی رہائش پذیروں میں اضافہ اس حملے کی وجوہات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے جمعہ کو کہا تھا، “نیوزی لینڈ کی گلیوں میں خون خرابے کی اصل وجہ امیگریشن پروگرام ہے، جسکی وجہ سے شدت پسند مسلمانوں کو نیوزی لینڈ میں آنے کا موقع ملا۔”

سینیٹر سینیٹر فریسر ایننگ کے اس حملے کی دنیا بھر میں کڑی مذمت ہوئی۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم سکاٹ میرسن نے ایننگ کے بیان ‘کو ‘پر مذمت’ بتایا۔ انہوں نے کہا که انکے بیان کی آسٹریلیا میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم سکاٹ میرسن نے کہا، “سینیٹر سینیٹر فریسر ایننگ کے ذریعے اس پر تشدد، متعصبانہ اور دہشت گرد حملے کے لئے امیگریشن پروگرام پر الزام لگانا بدبختانہ ہے، اس طرح کے خیالات کو آسٹریلیا میں کوئی جگہ نہیں ہے، آسٹریلیائی سینیٹر کی بات تو چھوڑ ہی دیجیے۔”

بتا دیں که جمعہ کو نیوزی لینڈ کے کرائسٹچرچ میں ہوئے اس دہشتگرد حملے میں برینٹن ٹیرینٹ نام کے ایک آسٹریلیائی نژاد شخص نے مسجد میں نماز پڑھ رہے مسلمانوں پر اندھا دھند گولیاں برسائی تھی۔ اس حملے میں اب تک 49 لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔ مرنے والوں میں 6 ہندوستانی مسلم بھی شامل ہیں۔ ان میں 4 گجرات کے رہنے والے ہیں، جبکہ دو حیدرآباد کے رہنے والے ہیں.

سینیٹر کو انڈا مارنے والے نوجوان کیلئے عطیاتی مہم، ہزاروں ڈالر جمع

آسٹریلیا کے مسلمان مخالف سینیٹر فریسر ایننگ کو انڈا مارنے والے نوجوان کے قانونی اخراجات پورے کرنے کے لیے اور مزید انڈے خریدنے کی خاطر رقم جمع کرنے کے لیے کراؤڈفنڈنگ ویب سائٹ پر فنڈنگ مہم کے تحت ہزاروں ڈالر جمع کیے جاچکے ہیں۔

نیوزی لینڈ کی 2 مساجد میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں 49 افراد کے جاں بحق ہونے کے بعد گزشتہ روز آسٹریلوی سینیٹر فریسر ایننگ نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے حملے کی مذمت کرنے کے ساتھ ساری ذمہ داری نیوزی لینڈ میں آنے والے پناہ گزین مسلمانوں پر عائد کی تھی۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے متاثرین سے ہمدردی کرنے کے بجائے مسلمانوں کو دنیا بھر میں دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیا جبکہ نسل پرست سینیٹر نے اسلام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اشتعال انگیز مذہب کہا اور فاشزم سے تشبیہہ دی تھی۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا: مسلمان مخالف سینیٹر کو نوجوان نے انڈا دے مارا

جس پر ایک سفید فام نوجوان اپنے موبائل سے ویڈیو بناتے ہوئے سینیٹر کے قریب آیا اور ان کے سر پر انڈا دے مارا۔

سینیٹر نے فوری طور پر مڑ کر لڑکے کو تھپڑ مارا اور لاتوں سے مارنے لگے، جس پر نزدیک موجود لوگوں نے سینیٹر کو پکڑ کر قابو کیا جبکہ دیگر 2 افرد نے لڑکے کو بری طرح زدوکوب کر کے زمین پر پھینک دیا جسے بعد ازاں پولیس نے گرفتار کرلیا۔

بلومبرگ کے مطابق نوجوان کو کچھ دیر بعد رہا کردیا گیا تھا لیکن فریسر ایننگ اور انڈا مارنے والے نوجوان سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔

آن لائن امریکی میگزین بسل کی رپورٹ کے مطابق نوجوان کی جانب سے مسلمان مخالف سینیٹر کو انڈا مارنے کے اقدام کو سوشل میڈیا پر بہت پذیرائی ملی جس کے بعد ہیش ٹیک ’ایگ بوائے‘ وائرل ہوگیا۔

اس کے علاوہ آن لائن کراؤڈ فنڈنگ ویب سائٹ ویب سائٹ پر انڈا مارنے والے نوجوان کی حمایت میں دو مختلف فنڈنگ مہم کے ذریعے رقم جمع کی گئی۔

ان فنڈنگ مہم کا مقصد انڈا مارنے والے نوجوان کو قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنے کی صورت میں اس کی مالی مدد کرنا ہے۔

گو فنڈ می پر ’ منی فار ایگ بوائے ‘ کے عنوان سے قائم کیے گئے فنڈ کے تحت اب تک 32 ہزار ڈالر جمع کیے جاچکے ہیں، اس فنڈ سے جمع کی گئی رقم نوجوان کے قانونی اخراجات اور مزید انڈوں کی خریداری کے لیے خرچ کی جائے گی ۔

عطیاتی مہم شروع کرنے والے شخص نے لکھا کہ ’وہ لوگ جو حیران ہورہے ہیں کہ یہ رقم ایگ بوائے کے پاس کیسے جائے گی،اس سلسلے میں ایگ بوائے سے فیس بک کے ذریعے رابطہ کیا ہے اور آپ کمنٹس میں ان کا جواب دیکھ سکتے ہیں‘۔

بعدازاں انہوں نے لکھا کہ کچھ دیر قبل میں نے ایگ بوائے سے فون پر بات کی اور اس فنڈ سے جمع کی گئی رقم کا ایک بڑا حصہ کرائسٹ چرچ حملے کے متاثرین کو بھیجنا چاہتے ہیں‘۔

گوفنڈ می ہی پر ’ ایگ بوائے ورسس فریسر ایننگ ‘ کے نام سے بنائے گئے علیحدہ فنڈمیں اب تک 3 ہزار 5 سو 13 ڈالر جمع کیے جاچکے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading