مسلمانوں کوریزرویش نہیں چاہئے بلکہ ترقی کے لئے حکومت پالیسی بنائے: شاہ فیصل

سری نگر :9فروری ۔(ایجنسیز)کشمیر سے یو پی ایس سی ٹاپر رہ چکے اور حال ہی میں سیاست میں قدم رکھنے والے شاہ فیصل نے ایک بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جو حالات ہیں اور بالخصوص مسلمان جس طرح سے پچھڑے ہوئے ہیں ملک کو اس کا حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو ریزرویشن نہیں بلکہ ان کی ترقی کے لئے حکومت کو پالیسی لانے کی ضرورت ہے۔شاہ فیصل نے گزشتہ روز دہلی میں نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے چار۔ پانچ سالوں میں جو صورت حال میں نے دیکھی ہے اس کا سامنا کرنے کے لئے میں نے ملازمت کو ترک کیا ہے اور سیاست میں قدم رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کا مطلب محض نوکری کرنا نہیں ہے۔ اصل مسئلہ سیاسی حقوق کے حصول کا ہے۔ملک کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے شاہ فیصل نے کہا کہ پچھلے چند سالوں میں جو سیاست ہوئی ہے وہ ہندوستان کی روح سے میل نہیں کھاتی۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ تین ریاستوں کے انتخابی نتائج سے انہیں اب کچھ امید ضرور بندھی ہے۔ کشمیر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بات چیت سے کشمیر میں حالات کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔خیال رہے کہ شاہ فیصل نے 8 سال پہلے سول سروسز امتحانات میں ملکی سطح پر اول پوزیشن حاصل کر کے تہلکہ مچا دیا تھا لیکن گزشتہ 9 جنوری کو جب انہوں نے اپنے عہدے سے مستعفی ہو کر سیاست میں جانے کا اعلان کیا تو اس اعلان نے اور بڑا تہلکہ مچا دیا۔ 36 سالہ شاہ فیصل سرینگر سے شمال کی جانب 120 کلومیٹر کی دوری پر واقع علاقے لولاب میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک استاد تھے تاہم انہیں نامعلوم مسلح افراد نے 25 سال پہلے قتل کر دیا تھا۔ لولاب ضلع کپواڑہ کا دور افتادہ علاقہ ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading