پولیس کی مستعدی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جے این یو معاملہ میں اس نے جو ایف آئی آر درج کی ہے وہ یونیورسٹی طلباء یونین کی صدر آئشی گھوش کے خلاف ہے۔ یہ وہی آئشی گھوش ہیں جن کا سر حملہ کے دوران لہو لہان ہوا۔ مستعد پولس نے آئشی کے خلاف تو کارروائی کر دی لیکن اس نے ابھی تک آئشی کو زخمی کرنے والوں کے خلاف نہ تو کوئی کارروائی کی ہے اور نہ ہی انہوں نے اس پر روشنی ڈالنے کی ضرورت سمجھی کہ حملہ کرنے والے کون لوگ ہیں۔
No attacker named by cops, no arrest made against the ‘masked mob’ with sticks and rods 36 hours on but case filed against JNU student union president Aishe Ghosh who suffered head injuries! Has Delhi police lost its marbles?
— Rajdeep Sardesai (@sardesairajdeep) January 7, 2020
جواہر لال یونیورسٹی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہاسٹل اور سیمسٹر کی فیس میں اضافہ کی وجہ سے اس کی مخالفت کر رہے مخالف اور حامی طلبا ء میں جھگڑا ہوا جس نے بعد میں تشدد کی شکل اختیار کر لی اور اس تشدد میں 25 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں طلباء یونین کی صدر، 2 پروفیسر سمیت کئی طلباء شامل ہیں۔ اب دہلی پولیس نے آئشی گھوش سمیت 19 طلباء کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ اے این آئی کے مطابق 4 جنوری کو جو مارپیٹ ہوئی اور سرور روم توڑا گیا اس میں آئشی گھوش کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔اس ایف آئی آر میں آئشی گھوش کے سات سے آٹھ ساتھیوں کے نام بھی شامل ہیں اور یہ ایف آئی آر یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کی گئی ہے۔ اس درمیان ہندو رکشا دل نے جے این یو کے حملہ کی ذمہ داری لینے کا اعلان کیا ہے۔ ہندو رکشا دل کے پنکی چودھری نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ جے این یو میں پٹائی کرنے والے ان کے کارکن تھے۔
Delhi Police has filed a FIR against JNUSU President Aishe Ghosh and 19 others(name not in accused column but in detail list) for attacking security guards and vandalizing server room on January 4. The complaint was filed by JNU administration. FIR was registered on January 5. pic.twitter.com/zUYZ2AOXKx
— ANI (@ANI) January 7, 2020
واضح رہے کہ جے این یو انتظامیہ کے مطابق 8 اکتوبر سے ہاسٹل فیس کے اضافہ کے خلاف طلباء یونین اور طلباء احتجاج کر رہے تھے اور اسی وجہ سے طلباء نے سیمسٹر امتحانات کا بائیکاٹ بھی کیا تھا۔ طلباء یونین و دیگر طلباء اس کے خلاف اپنا احتجاج بھی جاری رکھے ہوئے تھے۔ اتوار کو جب طلباء سیمسٹر رجسٹریشن کرانے کے لئے آئے کیونکہ وہ آخری دن تھا تب بائیں محاذ کے طلباء نے انہیں یہ کہہ کر روکنے کی کوشش کی کہ وہ ان کے حق کی لڑائی لڑ رہے ہیں اس لئے وہ ان کا ساتھ دیں۔ لیکن کچھ طلباء رجسٹریشن کرانے کے لئے بضد نظر آئے جس پر طلباء میں دھکا مکی بھی ہوئی لیکن معاملہ نے اس وقت طول پکڑا جب باہر سے نقاب پوش آئے اور انہوں لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے مار پٹائی شروع کر دی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
