آکولہ ۔ 19؍ جولائی 2025 ( پریس ریلیز ) آج یہاں دار العلوم سونوری تعلقہ مر تضی پور ضلع آکولہ میں جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی نگرانی میں مساجد ،مدارس و دیگر عبادت گاہوں کے ڈوکومینٹ کی درستگی کےسلسلے حضرت مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب ( صدر جمعیۃ علماء مہا راشٹر ) کی صدارت اور مولانا مفتی محمد روشن شاہ قاسمی صاحب ( جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ودربھ مہا راشٹر ) کی نگرانی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا،جس کا آغاز دار العلوم سونوری کے ایک طالب علم محمد معاویہ بلہار شاہ کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا ،محمد ریحان سلمہ نے نعت پاک پیش کیا ، حافظ محمد امروز سلمہ نے جمعیۃ کا ترانہ پیش کیا۔ مولانا سید وصی اللہ مظاہری صاحب ( صدر جمعیۃ علماء ضلع آکولہ ) نے تحریک صدارت پیش کی ،مولانا محمد تسلیم صاحب ( صدر جمعیۃ علماء ضلع واشم ) نے اس کی تائید کی ،مفتی محمد روشن قاسمی صاحب نے تمہیدی گفتگو کرتے ہوئے مساجد مدارس و دیگر عبادت گاہوںکے کردار کی حفاظت کرنے ،، ان کی تعمیر سے قبل ان کا نقشہ حکومت کے محکمہ تعمیر سے منظور کرانے، ان کے دستاویزات درست کر نے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج ہم نے توجہ نہیں دی تو آسام جیسے حالات آنے میں دیر نہیں لگے گی۔
اس موقع پر صدر اجلاس مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب ( صدر جمعیۃ علماء مہا راشٹر ) نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مساجد ، مسلمانوں کے لیے مذہبی و دینی شعائر کی حیثیت رکھتی ہیں ، یہ اللہ کا گھر او ر اس کے ذکر و عبادت کا مقام ہیں ۔جب بندہ کسی زمین کو مسجد کے لئے وقف کرتا ہے، تو وہ زمین براہ راست اللہ کے حوالہ کردیتا ہے، وہ جگہ مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس اور قابل احترام ہو جاتی ہے ۔ اس کاتحفظ مسلمانوں کا آئینی ، دینی وایمانی فریضہ ہے ۔موجود ہ حالات میں مساجد و مدارس کی حفاظت کے لیے زیادہ بیدار رہنے کی ضرورت ہے ، حال میں ملک میں ایسے بہت سارے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں فرقہ پرست ذہنیت کے حامل افسران نے مسجد وں اور مدرسوں کو غیر قانونی بتا کر منہدم کردیا، یا اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی، ان میں ہماری کمزرویاں بھی شامل ہیں ۔ اس لیے ضروری ہے کہ موجودہ حالات میں مساجد و مدارس کے ذمہ داران دانشمندی کا ثبوت دیں ۔ ہمارے وہ مساجد و مدارس جن کے کاغذات ابھی تک درست نہیں ہیں،انہیں درست کرائیں۔ اجلاس سے جناب سمیر غلام نبی قاضی صاحب ( چیرمین مہا راشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ) نے گفتگو کرتے ہو ئے کہا ہم نے وقف بورڈ کوبہت زیادہ ڈیولپ کیا ہے اور ہر ضلع میں وقت آفس بنایا ہے اور اس میںآفیسر س آپ کی خدمات کے لیے ہر وقت تیار ہے ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اگر کوئی بھی فائل بھیجیں گےتو ہم اس کو انشاءاللہ ایک مہینے کے اندر اندر پایہ تکمیل تک پہنچا نے کی کوشش کریںگے۔
جناب سید جنید صاحب (سی ۔او۔ وقف مہاراشٹر بورڈ)نے کہا کہ ہمیں اپسی جھگڑے جو کہ ٹرسٹیوں اور متولیوں کے درمیان ہوتے ہیں اس کو حکمت کے ساتھ میں نمٹانا چاہیے اورآپس میں جھگڑے نہیں کرنا چاہیے اس سے بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے اور اوقاف کے سلسلے میں نقصان بھی ہوتا ہے لہذا ہم سب کومتحد ہوکر کام کرناچاہیے ۔ ڈپٹی سی۔او وقف بورڈ مہا راشٹر جناب مشیر صاحب،جناب خسرو خان صاحب اسپیشل آفس سپرینٹنڈنٹ وقف بورڈ مہاراشٹر ،جناب افتخار ہاشمی صاحب ( ممبروقف بورڈ مہاراشٹر ) جناب شاکر حسین ،جناب امجد فاروقی صاحب متولی انجمن ایسو شین، عظیم صدیقی سکریٹری صاحب سمیت علاقہ ودربھ کے تمام اضلاع کے وقف آفیسران نے شرکت کی اورمساجد و مدارس کے کاغذات کی درستگی کے تعلق سے مفید رہنمائی فرمائی ۔مفتی عبدالرحمن نائیگاوی صاحب( جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء مرہٹواڑہ ) مولانا ابراہیم صاحب قاسمی ( صدر جمعیۃ علماء ضلع شولاپور) جناب ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان ( لیگل سکریٹری جمعیۃ علماء مہا راشٹر ) نےجمعیۃ علماء کی سنہری تاریخ ، اس کی نمایاں خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے وقف کے معنی اس کے مفہوم اور وقف کے تعلق سے اہم معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت جمعیۃ علماء مساجد و مدارس کے سلسلے میں بہت ہی زیادہ حساس ہے۔ انہوں نےجمعیۃ علماء کی ممبر سازی اور جماعت کو مضبوط کرنے کے سلسلے میں بہت اہم اور قیمتی مشورے دیئے۔
اس اجلاس میںصدر محترم نے وقف بورڈ کے چیئرمین سمیر غلام نبی قاضی صاحب کی شال دے کر گل پوشی کی۔ مفتی روشن قاسمی صاحب نےوقف بورڈ مہا راشٹر کے دیگر آفیسران کی شال دے کر گل پوشی کی ۔اجلاس میں قاری شمس الحق قاسمی صاحب ( صدر جمعیۃ علماء مرہٹواڑہ ) مفتی ابرار الحق قاسمی صاحب مہتمم جامعہ قاسم العلوم اودگیر ، مولانا تجمل صاحب مہتمم دار العلوم فر قانیہ سیلو ضلع پر بھنی و دیگر شریک تھے۔ اس اجلاس کے بعد تر بیتی کیمپ ہوا علاقہ ودربھ کے 11 ضلعوں و تعلقوں کے صدور و جنرل سکریٹری ،مساجد کے ذمہ داران و متولیان و ائمہ کرام نے بڑی تعداد میں شرکت کرنے وقف آفیسران کے پاس اپنے مدارس اور مساجد کے کاغذات کو جمع کئے ،صدر اجلاس مولانا ندیم صدیقی صاحب کی دعاء پر اجلاس کا اختتام عمل میں آیا۔